میں

تجارت کے لیے دنیا کے اہم بحری راستے – قسط 1

زمانہ قدیم میں انسان تجارت کے لیے زیادہ تر زمینی راستے ہی منتخب کرتا تھا۔ بحری تجارت بھی ہوتی تھی، لیکن وہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی  نہیں تھی، ہاں! مقامی سطح پر دریاؤں  ہی کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ تجارت ہو جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم تجارتی راستوں میں سب سے زیادہ اہمیت شاہراہِ ریشم کو حاصل تھی، ایک ایسا راستہ جس نے مشرق اور مغرب کو آپس میں جوڑ دیا۔

دوسری صدی قبلِ مسیح سے لے کر 15ویں صدی تک یہ دنیا کی اہم ترین تجارتی شاہراہ تھی کہ جس کے ذریعے چین وسط ایشیا، فارس، عرب، بلادِ شام، مصر، اناطولیہ اور قسطنطنیہ یعنی یورپ تک تجارت کرتا تھا۔ اس شاہراہ کے ساتھ صرف تجارت ہی نہیں بلکہ خیالات، نظریات، ایجادات فلسفے، مذاہب بلکہ وباؤں نے بھی ایک سے دوسری جگہ کا سفر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہِ ریشم انسانی تاریخ کے  ارتقا کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

شاہراہ ریشم اور جی ٹی روڈ

پھر ہمارے لیے ایک اہم تجارتی راستہ گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) بھی تھا۔ یہ بھی تقریباً شاہراہِ ریشم جتنا ہی پرانا راستہ ہے، جس پر چٹاگانگ سے لے کر کابل تک تجارت ہوتی تھی۔ یعنی یہ موجودہ بنگلہ دیش سے شروع ہو کر بھارت، پاکستان اور افغانستان تک جاتا تھا۔ 16 ویں صدی میں شیر شاہ سوری نے اسے جدّت بخشی اور تب سے آج تک یہ راستہ شاد آباد ہے بلکہ اتنا آباد ہے کہ غالباً آبادی کے لحاظ سے دنیا کا گنجان آباد ترین علاقہ ہوگا۔

بہرحال، 15 ویں صدی سے انسانوں  نے بڑے سمندروں کو بھی مسخر کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ بحرِ ظلمات کے پار ایک نئی دنیا بھی دریافت کر  لی۔ بحری تجارت نے وہ فروغ پایا کہ آج اِس جدید زمانے میں بھی تجارت کا بنیادی اور اہم ترین ذریعہ سمندر ہی ہیں۔ حالانکہ انسان فضاؤں  بلکہ خلاؤں کو چیر رہا ہے، ریل گاڑیاں ہوائی جہاز کی رفتار حاصل کر رہی ہیں، نت نئی ٹیکنالوجی دنوں کے فاصلوں کو چند گھنٹوں تک لے آئی ہے، لیکن  آج بھی 80 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی تجارت سمندروں کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔

عالمی بحری تجارت

اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں پہلا اور سب سے پرانا نام بحرِ ہند ہے، جس کے ذریعے ہندوستان سے مسالے یورپ تک جاتے تھے۔ مون سون کی ہوائیں  جہازوں کو کہیں تیزی سے سفر کرنے کا موقع دیتی تھیں لیکن یہ سفر مخصوص عرصے ہی میں کیا جا سکتا تھا۔

ایک جدید بحری جہاز کوئین میری 2 کا تقابل

آج دنیا تجارت کے لیے دیو ہیکل بحری جہازوں اور انوکھے بحری راستوں پر انحصار کرتی ہے۔ جو راستے عالمی تجارت کے لیے بہت اہم ہیں ان میں سے پہلا نام نہرِ سوئز کا ہے۔

نہرِ سوئز کا طائرانہ منظر۔ نچلے حصے میں بحیرۂ قلزم ہے جہاں سے یہ نہر شمال کی سمت سفر کرتی ہے اور بحیرۂ روم میں نکلتی ہے

یہ نہر بحیرۂ قلزم کو بحیرۂ روم سے ملاتی ہے اور عین اس جگہ پر واقع ہے جہاں ایشیا اور افریقہ آپس میں ملتے ہیں۔ یعنی یہ مقام بحری اور زمینی دونوں تجارتی راستوں کا سنگم ہے۔

اس نہر کا خیال تو بہت پرانا تھا لیکن اس پر عملی طور پر کام 1859ء میں شروع ہوا اور یہ 10 سال کے عرصے میں مکمل ہو گئی۔ یوں ایشیا  سے تجارتی سامان نہ صرف یورپ بلکہ شمالی امریکا  لے جانا بھی  آسان ہو گیا۔

نہر سوئز کا افتتاح

فاصلہ کتنا کم ہوا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بحیرۂ عرب سے لندن جانے کے لیے سفر میں 8,900 کلومیٹرز کی کمی آئی کیونکہ نہر سوئز بننے سے پہلے بحری جہازوں کو پورے افریقہ کے گرد چکر کاٹ کر جانا پڑتا تھا۔

تین اہم بحری راستے، نہر سوئز، راس امید اور آبنائے ملاکا

اس نہر کی وجہ سے مصر کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی  لیکن یہ نہر برطانیہ اور فرانس کی ملکیت تھی۔ 1956ء میں اُس وقت کے مصری صدر جمال عبد الناصر نے نہر کو قومیانے کا فیصلہ کیا، جس پر برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کر دیا۔ نہر سوئز بند ہو گئی، ایک عالمی بحران  نے جنم لیا اور اقوامِ متحدہ اور امریکا کی مداخلت کے  بعد ہی یہ مسئلہ حل ہو سکا۔ پھر 1967ء میں  چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے نہر پر قبضہ کر لیا  اور پھر  نہر سوئز تقریباً 8 سال بند رہی۔

سوئز بحران کے دوران نہر کے گرد مچنے والی تباہی

لیکن آج دنیا کی کُل عالمی تجارت کا 12 فیصد حصہ اسی نہر سے گزرتا ہے۔ اتنا زیادہ رش ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مارچ 2021ء میں دنیا کے بڑے کنٹینرشپس میں سے ایک Ever Given اس نہر میں پھنس گیا اور اس طرح پھنسا کہ نہر مکمل طور پر بند ہو گئی۔ ایک ہفتے کی سر توڑ کوششوں کے بعد اس جہاز کو نہر سے نکالا گیا لیکن تب تک اربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا تھا۔

سال 2021ء میں ایک بحری جہاز پھنسنے سے نہر سوئز تقریباً ایک ہفتہ بند رہی اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا

مصر ماضی میں  بھی نہرِ سوئز کی توسیع کر چکا ہے اور اس واقعے کے بعد مزید اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری  کر کے نہر کو توسیع دینے کا کام کر رہا ہے۔ کیونکہ یہ نہر مصر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ صرف 2021ء میں مصر نے نہر سے 6.3 ارب ڈالرز کی آمدنی حاصل کی ہے۔

مصر نہر کو توسیع دینے کے ایک اور منصوبے پر کام کر رہا ہے

اہم ترین تجارتی راستوں کے سلسلے میں مزید پانچ قسطیں آئیں گی۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ آپ کو پسند  آئے گا۔

2 Comments

Leave a Reply

2 Pings & Trackbacks

  1. Pingback:

  2. Pingback:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

گزشتہ 100 سالوں کی عظیم نو مسلم شخصیات – قسط 1

[وڈیوز] پاکستان ایس-400 کا توڑ کیسے کرے گا؟