اسلام کی آمد کو 1400 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور ہر ہر دور اور عہد میں حق کا نور ہی پھیلتا رہا ہے۔ اُن دلوں میں بھی کہ جن تک حق پہنچنے کا بظاہر کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی، لیکن اللہ کے دین کی حقانیت ان میں ایسی رچی بسی کہ آج دنیا ان کی مثالیں دیتی ہے۔ آج ایک نئے سلسلے کے ذریعے ہم چند ایسی مشہور نو مسلم شخصیات کے بارے میں بتائیں گے کہ جنہوں نے گزشتہ 100 سالوں کے دوران اسلام قبول کیا ہے۔
’عظیم ترین’ محمد علی

پچھلی ایک صدی کے دوران اسلام قبول کرنے والوں میں جو شہرت محمد علی نے حاصل کی، شاید ہی کسی دوسرے کے نصیب میں آئی ہو۔ ایک ایسا کھلاڑی جسے آج بھی دنیا The Greatest یعنی عظیم ترین کہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں صرف ایک باکسر ہونے کی وجہ سے عظیم نہیں کہا جاتا تھا، ان کی عظمت کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مشکل ترین وقت میں بھی حق پر ڈٹے رہے اور ظلم کا ساتھ نہیں دیا۔
ایک ایسے زمانے میں جب امریکا میں نسل پرستی اپنے عروج پر تھی اور سب کو برابر کے حقوق دینے کی تحریک چل رہی تھی، اُس وقت محمد علی نے 1960ء کے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ لیکن اس کارنامے اس کے باوجود انہیں امریکی معاشرے میں وہ عزت اور مقام نہیں ملا، جس کے وہ حقدار تھے۔ ایک بار وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک جگہ کھانا کھانے گئے لیکن ریستوران انتظامیہ نے انہیں سروس دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ صرف سفید فاموں کے لیے تھا۔ اس واقعے پر محمد علی بہت دل برداشتہ ہوئے اور اپنا اولمپک گولڈ میڈل تک دریا میں پھینک دیا۔
گھٹن کے اِس ماحول میں محمد علی نے اپنے جذبات کا اظہار باکسنگ کے ذریعے کیا۔ وہ پہلی بار 1964ء میں ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن بنے۔ تب ان کی عمر صرف 22 سال تھی اور یہی وہ سال تھا جب وہ کیشیئس کلے سے محمد علی بن گئے۔ بعد میں انہوں نے اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع بھی کیا لیکن اب اُن کے لیے نئے مسائل نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔

1966ء میں جب ویت نام میں جنگ چل رہی تھی تو امریکی قانون کے تحت محمد علی سے بھی فوجی خدمات طلب کی گئیں۔ انہوں نے تو صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرا مذہب اجازت نہیں دیتا کہ میری کسی ایسی جنگ میں حصہ لوں، جس کی اسلام اجازت نہ دیتا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم غیر مسلموں کی جنگوں میں نہیں لڑتے۔
اس اعلان کے بعد تو اُن سے تمام اعزازات چھین لیے گئے، ان پر مقدمہ بھی درج ہوا اور مجرم بھی قرار دیا گیا۔ محمد علی نے بہت طویل قانونی جنگ لڑی اور بالآخر اس میں بھی کامیاب ہوئے۔ ویت نام جنگ میں حصہ لینے سے انکار ثابت کرتا ہے کہ محمد علی ایک عظیم باکسر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھے۔
1970ء میں پابندی ختم ہونے کے بعد محمد علی باکسنگ کی دنیا میں واپس آئے، "فائٹ آف دی سنچری” میں جو فریزیئر سے ہارے لیکن بعد میں 1974ء میں اپنا چھینا ہوا اعزاز واپس لیا ایک ایسی لڑائی میں جسے "رمبل ان دی جنگل” کہتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی فائٹ تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اُس زمانے میں اس فائٹ کو دنیا بھر میں 1 ارب ناظرین نے دیکھا تھا۔ محمد علی نے شاندار کامیابی حاصل کی اور یوں ایک مرتبہ پھر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپیئن بن گئے۔

محمد علی کی زندگی ایک اور اہم فائٹ کی "تھرلا اِن منیلا” تھی، جس میں وہ پھر جو فریزیئر سے لڑے۔ 15 راؤنڈ کی زبردست لڑائی کے بعد محمد علی کامیاب قرار پائے۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے زندگی میں موت کو سب سے قریب اسی فائٹ میں دیکھا۔

اس دوران محمد علی نے 1972ء میں حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ وہ 1981ء میں باکسنگ سے ریٹائر ہوئے اور چند سال بعد انہیں پارکسن کا مرض ہو گیا۔ اس بیماری میں جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ انہی لرزتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ محمد علی نے 1996ء کے اٹلانٹا اولمپکس کی شمع روشن کی تھی۔ اس موقع پر انہیں یہ خصوصی اولمپک تمغہ دیا گیا، اس تمغے کی جگہ پر جو انہوں نے پھینک دیا تھا۔

محمد علی کا انتقال جون 2016ء میں ہوا، لیکن وہ دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

مزاحمت کا استعارہ میلکم ایکس

اسلام قبول کرنے والی دوسری مشہور شخصیت میلکم ایکس تھے۔ آپ امریکا میں برابری کے حقوق کے لیے اٹھائی گئی تحریک کے ایک اہم رہنما تھے۔ جب چھوٹے تھے تو والد کا انتقال ہو گیا اور والدہ بیمار پڑ گئیں۔ ان حالات میں میلکم ایکس غلط صحبت میں پڑ گئے اور ایک جرم میں پکڑے بھی گئے۔ انہیں 10 سال قید کی سزا ملی، لیکن پانچ سال بعد رہا کر دیے گئے لیکن اس عرصے میں وہ مکمل طور پر بدل چکے تھے۔
میلکم ایکس کی تقریری صلاحیتیں بہت کمال کی تھی۔ یہی زمانہ تھا جب سیاہ فاموں نے اپنے لیے برابر کے حقوق کی تحریک شروع کی تھی۔ تب اُن کا تعارف ایک تنظیم ‘نیشن آف اسلام’ سے ہوا۔ یہ عجیب و غریب نظریات کی حامل تنظیم تھی لیکن اپنا تعلق اسلام سے جوڑتی تھی۔
اپنی تقریری صلاحیتوں کی وجہ سے میلکم ایکس جلد ہی سیاہ فاموں حقوق کی ایک توانا آواز بن گئے لیکن نیشن آف اسلام کے غلط نظریات اور اقدامات کی وجہ سے 60ء کی دہائی میں وہ اُن سے دور ہوتے چلے گئے اور بالآخر علیحدہ ہو گئے۔
تب میلکم نے اسلام کو ٹھیک سے سمجھنا شروع کیا اور پھر حج کے لیے سعودی عرب آئے۔ یہیں سے اُن کی زندگی بدل گیا۔ انہوں نے اپنا نام مالک الشہباز رکھ لیا اور اب ان کی آواز اسلام کے لیے بلند ہونے لگی۔ یہ نیشن آف اسلام کو بالکل پسند نہیں آیا۔ فروری 1965ء میں اسی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے میلکم ایکس کوقتل کر دیا۔

امریکا میں نسل پرستی کے خلاف تحریک میں سب سے بڑا نام مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا ہے، جو عدم تشدد کے قائل تھے۔ لیکن میلکم ایکس اُن سے بالکل مختلف نظریات رکھتے تھے۔ ہم مارٹن لوتھر کنگ کو امریکا کا گاندھی اور میلکم ایکس کو سبھاش چندر بوس کہہ سکتے ہیں۔
شاہراہِ مکہ کا مسافر محمد اسد

یہ تو وہ شخصیات تھیں جنہیں ہم حالات کی پیداوار کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کسی اہم اور نازک مرحلے پر اسلام کا انتخاب کیا اور پھر ڈٹ گئے۔ جیسا کہ امریکا میں نسل پرستی کا دور بہت بھیانک تھا، جس نے سیاہ فاموں میں شناخت کے ایک بڑے بحران کو جنم دیا۔ نتیجہ محمد علی اور میلکم ایکس جیسے لوگوں کے اسلام تک پہنچنے کی صورت میں نکلا۔
لیکن ایک شخصیت ایسی تھی جو حالات کے نتیجے میں مسلمان نہیں ہوئی بلکہ وہ مشاہدے اور علم کی بنیاد پر اسلام کے قریب آئی۔ یہ تھے علامہ محمد اسد۔ آپ کا تعلق ایک یہودی خاندان سے تھا۔ صرف 13 سال کی عمر میں آپ کو جرمن اور پولش زبانوں کے ساتھ ساتھ عبرانی اور آرامی زبانیں بھی آتی تھیں۔ جب آپ کی عمر 20 سال سے زیادہ ہوئی تو آپ انگریزی، فرانسیسی، فارسی اور عربی پر بھی عبور حاصل کر چکے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد آپ بطور صحافی فلسطین آئے اور کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ آپ مسلمانوں کے اخلاق اور طور طریقوں سے بہت متاثر ہوئے۔ یہاں تک کہ 1926ء میں مسلمان ہو گئے اور اپنا نام لیوپولڈ ویز سے بدل کر محمد اسد رکھ لیا۔
یہ محض جذباتی فیصلہ نہیں تھا، ایک علمی شخصیت ہونے کی وجہ سے انہوں نے دینی علوم پر اپنی دسترس بڑھائی اور پھر عالمِ اسلام کی ایک اہم علمی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
آپ ہندوستان بھی آئے اور علامہ اقبال سے ملاقات کے بعد آپ ہندوستان میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کے خیال کے حامی بنے۔ تبھی آپ نے مستقبل کی ریاست یعنی پاکستان کے لیے کافی کام کیا۔ جب 14 اگست 1947ء کو پاکستان آزاد ہوا تو محمد اسد اس نئی مملکت کے شہری بن گئے۔

پاکستان کا پہلا قومی پاسپورٹ محمد اسد ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا، یوں وہ قانوناً پاکستان کے پہلے شہری بنے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس شعر کی زندہ مثال تھے:
ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
پاکستان نے آپ کو کئی اہم عہدوں سے نوازا، یہاں تک کہ آپ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر بھی بنے۔

علامہ محمد اسد کا سب سے اہم کام اُن کا انگریزی ترجمہ قرآن ہے۔ آپ کے ترجمہ قرآن کو محمد پکتھال اور یوسف علی کے ترجمے کے ساتھ انگریزی زبان میں قرآن مجید کا بہترین ترجمہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کی خود نوشت سوانح حیات "روڈ ٹُو مکہِ” بھی مغرب میں بہت مشہور ہوئی۔
فروری 1992ء میں آپ کا انتقال اسپین میں ہوا اور آج غرناطہ میں دفن ہیں، اسی سرزمین پر جہاں سے صدیوں پہلے مسلمانوں کو نکال دیا گیا تھا، اس کے دامن میں لاکھوں فرزندانِ توحید کے درمیان نسلِ نو کا ایک ہیرا بھی دفن ہے۔
اللہ ان تمام شخصیات کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔ مشہور نو مسلم شخصیات کے سلسلے میں مزید تحاریر بھی آئیں گی۔ آپ بھی ہمیں تجویز کر سکتے ہیں کہ ہم اگلی تحاریر میں کن شخصیات کو موضوع بنائیں۔


