میں

تجارت کے لیے دنیا کے اہم بحری راستے – قسط 2

ہم نے دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں کے حوالے سے گزشتہ قسط میں بحری راستوں کی اہمیت کے ساتھ ساتھ چند اہم تجارتی گزرگاہوں کا ذکر بھی کیا تھا۔ آج اسی سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں اور نہرِ سوئز کے بعد اب دیگر بحری راستوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جن میں سب سے نمایاں ہے نہرِ پاناما۔

نہرِ پاناما

جس طرح کسی زمانے میں بحری جہازوں کو ایشیا سے یورپ آنے جانے کے لیے افریقہ کے گرد طویل چکر کاٹنا پڑتا تھا، بالکل اسی طرح دنیا کے دو سب سے بڑے سمندروں بحرِ اوقیانوس سے بحرِ الکاہل کے مابین سفر کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ یعنی اگر کوئی بحری جہاز امریکا کے شہر نیو یارک سے اپنے ہی ملک کے مغربی ساحل پر واقع دوسرے شہر سان فرانسسکو جانا چاہتا تھا تو اسے پورے برِ اعظم جنوبی امریکا کے گرد چکر کاٹ کر جانا پڑتا تھا۔ وہ بھی کیپ ہورن جیسے خطرناک ترین بحری راستے سے۔ یہ کُل فاصلہ ساڑھے 22 ہزار کلومیٹرز کا بنتا تھا لیکن نہرِ پاناما نے اس فاصلے کو گھٹا کر صرف ساڑھے 9 ہزار کلومیٹرز کر دیا۔

یہ نہر عین اُس جگہ پر واقع ہے جہاں بحرِ اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان ایک زمینی پٹی ‘خاکنائے پاناما’ (Isthmus of Panama) واقع ہے۔ جہاں پر 1881ء میں فرانس نے ایک نہر کھودنی شروع کی لیکن یہ کوئی آسان علاقہ نہیں ہے۔ آبادی سے دُوری، گھنا جنگل اور اونچے نیچے راستے، اس کام میں بڑا چیلنج بن کر ابھرے یہاں تک کہ 22 ہزار مزدوروں کی جانیں چلی گئیں جس کے بعد اس منصوبے کو بند کر دیا گیا۔ 1904ء میں امریکا نے اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا اور 10 سال کی محنت اور مزید 5 ہزار سے زیادہ اموات کے ساتھ اس نہر کو مکمل کر لیا۔

‏1914ء میں یہاں سے 1,000 بحری جہاز گزرے تھے اور آج یہ تعداد 14 ہزار سے زیادہ ہے یعنی یہ دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ ایک بحری جہاز کو اس نہر میں داخل ہو کر دوسرے سرے سے باہر نکلنے میں اوسطاً 11 سے 12 گھنٹے لگتے ہیں۔ کیونکہ نہر کے درمیانی حصے میں ایک بڑی جھیل واقع ہے جو سطحِ سمندر سے 85 فٹ اوپر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحری جہازوں کو کینال لاکس میں سے گزار کر اوپر لایا جاتا ہے اور پھر جھیل کے دوسرے کنارے سے نیچے اتارا جاتا ہے۔

‏1977ء تک یہ نہر اور اس کے ارد گرد کا علاقہ امریکا کے پاس تھا، جس کے بعد اسے ایک معاہدے کے تحت پاناما کے حوالے کیا گیا۔ اب یہ نہر مکمل طور پر پاناما کی ملکیت ہے۔


آبنائے ملاکا

اب تک ہم نے نہرِ سوئز اور نہرِ پاناما کی بات کی ہے جو مصنوعی طور پر بنائی گئیں لیکن سب سے مصروف بحری راستہ دراصل ایک قدرتی گزرگاہ ہے جسے آبنائے ملاکا کہتے ہیں۔

یہ آبنائے انڈونیشیا اور ملائیشیا کے درمیان جزیرہ سماٹرا اور جزیرہ نما ملائے کے درمیان سے گزرتی ہے اور بحرِ ہند اور بحرِ الکاہل کو آپس میں ملاتی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا کہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے علاقوں کو ملانے کا کام کرتی ہے۔ چین، بھارت، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، فلپائن، ویت نام، سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے اہم ممالک کی تجارت آبنائے ملاکا ہی کی مرہونِ منت ہے۔

قدیم زمانے میں عرب تاجر اسی راستے سے گزر کر مشرقِ بعید اور چین جاتے تھے۔ پھر 10 ویں صدی سے چین کے بحری جہاز بھی اسی راستے کا استعمال کرتے ہوئے باقی دنیا سے تجارت کرنے لگے۔

آج چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور ایشیا، یورپ اور افریقہ بھر سے اُس کی تجارتی اسی آبنائے سے ہوتی ہے۔ کُل عالمی تجارت کا 25 فیصد بلکہ تیل کی عالمی تجارت کا چوتھائی حصہ بھی آبنائے ملاکا ہی سے گزرتا ہے۔ یہاں سے ہر سال 94 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں جو اسے دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہ بناتے ہیں۔ پھر ایک مسئلہ بھی ہے کہ ایک جگہ پر یہ آبنائے صرف 2.8 کلومیٹرز چوڑی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے بحری ٹریفک میں بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔


آبنائے ہرمز

دنیا بھر کو تیل کی فراہمی کے لیے سب سے اہم بحری راستہ ہے آبنائے ہرمز۔ یہ خلیجِ فارس اور خلیجِ عمان کو آپس میں ملانے والی قدرتی گزرگاہ ہے۔

خلیجِ فارس کے گرد تمام ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین سے نکلنے والا تیل اور گیس آبنائے ہرمز ہی سے دنیا کے مختلف ملکوں کو جاتی ہیں۔ دنیا کی ایک تہائی ایل این جی اور تیل کی کُل عالمی کھپت کا تقریباً چوتھائی حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ صرف 2018ء میں یہاں سے روزانہ 2.1 کروڑ بیرل تیل گزرا جس کا مطلب ہے روزانہ 1.17 ارب ڈالرز مالیت کا تیل! یہی وجہ ہے کہ عالمی تجارت میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے۔

لیکن یہ مشرق وسطیٰ میں واقع ہے، اس لیے آبنائے ہرمز کی صرف تجارتی ہی نہیں بلکہ جنگی اہمیت بھی ہے۔ ماضی میں یہاں مختلف ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے ماحول کشیدہ ہوا۔

جولائی 1988ء میں امریکی بحریہ نے اسی آبنائے میں ایک ایرانی مسافر طیارے کو مار گرایا تھا جس سے 290 معصوم شہری مارے گئے تھے۔

گزشتہ دہائی کے دوران ایران بارہا اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہے، جس کی وجہ سے امریکا اور عرب ممالک کی جانب سے اس پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ جو مقامات کسی عالمی جنگ کا سبب بن سکتے ہیں، آبنائے ہرمز ان میں سے ایک ہے۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں ہم آبنائے جبل الطارق، در دانیال اور آبنائے باب المندب کے بارے میں بتائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

[وڈیوز] سلطنت عثمانیہ کی یاد دلاتی ترکی کی پانچ شاہکار مساجد

دوڑ لگائیں، اپنی عمر بڑھائیں