میں

تائی ایسری – کرشن چندر

میں گرانٹ میڈیکل کالج کلکتہ میں ڈاکٹری کا فائنل کورس کررہا تھا اور اپنے بڑے بھائی کی شادی پر چند روز کے لیے لاہور آگیا تھا۔ یہیں شاہی محلے کے قریب کوچہ ٹھاکر داس میں ہمارا جہاں آبائی گھر تھا، میری ملاقات پہلی بار تائی ایسری سے ہوئی۔

تائی ایسری ہماری سگی تائی تو نہ تھی، لیکن ایسی تھیں کہ انہیں دیکھ کر ہر ایک کا جی انہیں تائی کہنے کے لیے بے قرار ہوجاتا تھا۔ محلے کے باہر جب ان کا تانگہ آ کے رکا اور کسی نے کہا: ’’لو تائی ایسری آگئیں‘‘ تو بہت سے بوڑھے، جوان، مرد اور عورتیں انہیں لینے کے لیے دوڑے۔ دو تین نے سہارا دے کر تائی ایسری کو تانگے سے نیچے اتارا، کیونکہ تائی ایسری فربہ انداز تھیں اور چلنے سے یا باتیں کرنے سے یا محض کسی کو دیکھنے ہی سے ان کی سانس پھولنے لگتی تھی۔ دو تین رشتہ داروں نے یک بارگی اپنی جیب سے تانگہ کے کرائے کے پیسے نکالے۔ مگر تائی ایسری نے اپنی پھولی ہوئی سانسوں میں ہنس کر سب سے کہہ دیا کہ وہ تو پہلے ہی تانگہ والے کو کرایہ کے پیسے دے چکی ہیں اور جب وہ یوں اپنی پھولی سانسوں کے درمیان باتیں کرتی کرتی ہنسیں تو مجھے بہت اچھی معلوم ہوئیں۔ دو تین رشتہ داروں کا چہرہ اتر گیا اور انہوں نے پیسے جیب میں ڈالتے ہوئے کہا: ’’یہ تم نے کیا کیا تائی؟ ہمیں اتنی سی خدمت کا موقع بھی نہیں دیتی ہو!‘‘ اس پر تائی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اپنے قریب کھڑی ہوئی ایک نوجوان عورت سے پنکھی لے لی اور اسے جھلتے ہوئے مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔

تائی ایسری کی عمر ساٹھ سال سے کم نہ ہوگی۔ ان کے سر کے بال کھچڑی ہوچکے تھے اور ان کے بھرے بھرے گول مٹول چہرے پر بہت اچھے لگتے تھے۔ ان کا پھولی پھولی سانسوں میں معصوم باتیں کرنا تو سب کو ہی اچھا لگتا تھا۔ لیکن مجھے ان کے چہرے میں ان کی آنکھیں بڑی غیر معمولی نظر آئیں۔ ان آنکھوں کو دیکھ کر مجھے ہمیشہ دھرتی کا خیال آیا ہے۔ میلوں دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں کا خیال آیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی آیا ہے کہ ان آنکھوں کے اندر جو محبت ہے، اس کا کوئی کنارہ نہیں، جو معصومیت ہے اس کی کوئی ا تھاہ نہیں، جو درد ہے اس کا کوئی درماں نہیں۔

میں نے آج تک ایسی آنکھیں کسی عورت کے چہرے پر نہیں دیکھیں جو اس قدر وسیع اور بے کنار ہوں کہ زندگی کا بڑے سے بڑا اور تلخ سے تلخ تجربہ بھی ان کے لیے ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہ رکھے۔ ایسی آنکھیں جو اپنی پنہائیوں میں سب کچھ بہا لے جائیں۔ ایسی انوکھی، معاف کر دینے والی، درگزر کر دینے والی آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھیں۔

تائی ایسری نے کاسنی شاہی کا گھاگھرا پہن رکھا تھا۔ جس پر سنہری گوٹے کا لہریا چمک رہا تھا۔ ان کی قمیض بسنتی ریشم کی تھی، جس پر زری کے پھول کڑھے ہوئے تھے۔ سر پر دوہرے ململ کا قرمزی دوپٹہ تھا۔ ہاتھوں میں سونے کے گوکھرو تھے۔ جب وہ گھر کے دالان میں داخل ہوئیں تو چاروں طرف شور مچ گیا۔ بہوئیں اور خالائیں اور نندیں اور بھاوجیں، موسیاں اور چچیاں سب تائی ایسری کے پاؤں چھونے کو دوڑیں۔ ایک عورت نے جلدی سے ایک رنگین پیڑھی کھینچ کر تائی ایسری کے لیے رکھ دی اور تائی ایسری ہنستے ہوئے اس پر بیٹھ گئیں اور باری باری سب کو گلے لگاکر سب کے سر پر ہاتھ پھیر کر سب کو دُعا دینے لگیں۔

اور ان کے قریب ہیرو مہری کی بیٹی سوتری خوشی سے اپنی باچھیں کھلائے زور زور سے پنکھا جھل رہی تھی۔ تائی ایسری گھر سے رنگین کھپچی کی ایک ٹوکری لے کر آئی تھیں جو ان کے قدموں میں ان کی پیڑھی کے پاس ہی پڑی تھی۔ وہ باری باری سے سب کو دعائیں دیتی جاتیں اور کھپچی والی ٹوکری کھول کر اس میں سے ایک چونی نکال کر دیتی جاتیں۔ کوئی ایک سو چونیاں انہوں نے اگلے بیس منٹ میں بانٹ دی ہوں گی۔ جب سب عورتیں اور مرد، لڑکے اور بچے بالے ان کے پاؤں چھو کر اپنی اپنی چونی لے چکے تو انہوں نے اپنی ٹھوڑی اونچی کرکے پنکھا جھلنے والی لڑکی کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا:
’’تو کون ہے؟‘‘

’’میں سوتری ہوں۔ ‘‘بچی نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔

’’آئے ہائے، تو جے کشن کی لڑکی ہے؟ میں تو بھول ہی گئی تھی تجھے۔ آ جا گلے سے لگ جا….!‘‘

تائی ایسری نے اس کو گلے سے لگالیا، بلکہ اس کا منہ بھی چوم لیا اور جب انہوں نے اسے اپنی کھپچی والی ٹوکری سے نکال کر چونی دی تو گھر کی ساری عورتیں قہقہہ مار کر ہنس پڑیں اور موسی کرتارو اپنی نیلم کی انگوٹھی والی انگلی نچا کر بولی:
’’تائی، یہ تو جے کشن کی بیٹی سوتری نہیں ہے، یہ تو ہیرو مہری کی بیٹی ہے۔‘‘

’’ہائے میں مرگئی۔‘‘ تائی ایسری ایک دم گھبرا کر بولی، ان کی سانس پھول گئی۔ ’’ہائے اب تو مجھے نہانا پڑے گا، میں نے اس کا منہ بھی چوم لیا ہے۔ اب کیا کروں؟‘‘

تائی ایسری نے اپنی بڑی بڑی حیران نگاہوں سے مہری کی بیٹی سوتری کی طرف دیکھا، جو اب اس طرح دھتکارے جانے پر سسکنے لگی۔ یکایک تائی کو اس پر رحم آگیا۔ انہوں نے پھر اسے بانہہ سے پکڑکر چمٹالیا۔ ’’ناں! ناں! تو کیوں روتی ہے، تو تو انجان ہے، تو تو دیوی ہے، تو تو کنواری ہے، تیرے من میں تو پرمیشر بستے ہیں۔ تو کیوں روتی ہے، مجھے تو اپنے دھرم کے کارن نہانا ہی پڑے گا۔ پر تو کیوں روتی ہے۔ ایک چونی اور لے۔‘‘

تائی ایسری سے دوسری چونی پاکر مہری کی بیٹی سوتری اپنے آنسو پونچھ کر مسکرانے لگی۔ تائی ایسری نے ایک بازو اٹھاکر پرے دالان میں گزرتی ہوئی ہیرومہری کو دیکھ کر بلند آواز میں کہا:
’’نی ہیرو۔ میرے اشنان کے لیے پانی رکھ دے۔ تجھے بھی ایک چونی دوں گی۔‘‘ اس پر ساری محفل لوٹ پوٹ ہوگئی۔

تائی ایسری کو کئی لوگ ”چونی والی تائی“ کہتے تھے۔ کئی لوگ ”کنواری تائی“ کہتے تھے۔ کیونکہ یہ بھی مشہور تھا کہ جس دن سے تایا یودھ راج نے تائی ایسری سے شادی کی تھی، اس دن سے آج تک وہ کنواری کی کنواری چلی آرہی تھیں، کیوں کہ سنانے والے تو یہ بھی سناتے ہیں کہ تایا یودھ راج نے اپنی شادی سے پہلے جوانی میں اتنی خوبصورت عورتیں دیکھ ڈالی تھیں کہ جب ان کی شادی گاؤں کی اس سیدھی سادی لڑکی سے ہوئی تو شادی کے پہلے روز ہی وہ انہیں بالکل پسند نہ آئی۔ جب سے انہوں نے شادی کرکے انہیں بالکل اکیلا چھوڑ دیا تھا۔ مگر کسی طرح کی سختی نہیں کرتے تھے۔ تایا یودھ راج ہر ماہ پچھتر روپے اسے بھیجتے تھے۔ وہ گاؤں میں رہتی تھی، اپنے سسرال کے ہاں اور سب کی خدمت کرتی تھی اور تایا یودھ راج جالندھر میں لوہے کا بیوپار کرتے تھے اور کئی کئی سال اپنے گاؤں میں نہیں جاتے تھے۔ میکے والوں نے کئی بار آکر تائی کو لے جانا چاہا مگر انہوں نے صاف انکار کردیا۔ میکے والوں نے یہ بھی چاہا کہ ان کی شادی پھر سے کردی جائے۔ مگر تائی اس کے لیے بھی راضی نہ ہوئیں۔ وہ ایسے انہماک سے اپنے سسرال کے لوگوں کی خدمت کرتی رہیں کہ سسرال والے خود انہیں اپنی بیٹی اور بہو سے زیادہ چاہنے لگے۔

تایا یودھ راج کے باپ مانک چند نے تو اپنے گھر کی ساری چابیاں تائی ایسری کے سپرد کردی تھیں اور ساس بھی اس حد تک چاہنے لگی تھیں کہ انہوں نے اپنے سارے گہنے پاتے نکال کر تائی ایسری کی تحویل میں دے دیئے تھے۔ ویسے بہت سی عورتوں کو دیکھ کر یہ خیال بھی آتا ہے کہ جوانی میں کیسی رہی ہوں گی۔ مگر تائی ایسری کو دیکھ کر کبھی یہ خیال بھی نہ آیا۔ ہمیشہ یہی خیال آتا ہے کہ تائی ایسری شاید بچپن سے بلکہ جنم ہی سے ایسی پیدا ہوئی ہوں گی۔ پیدا ہوتے ہی انہوں نے اپنی ماں کو ہاتھ پھیلاکر آشیرواد دی ہوگی اور شاید بڑے میٹھے مہربان لہجے میں یہ بھی کہا ہوگا ”تجھے میرے لیے بہت دُکھ اٹھانے پڑے، اس لیے یہ لو ایک چونی!“

شاید اسی لیے اپنے شوہر سے بھی ان کے تعلقات بے حد خوشگوار تھے۔ تایا یودھ راج ہمارے رشتہ داروں کی نظر میں شرابی، کبابی اور رنڈی باز تھے۔ وہ لوہے کے بڑے بیوپاری تھے تو کیا ہوا، انہیں اس طرح سے تائی ایسری کی زندگی برباد نہ کرنا چاہیے، مگر جانے کیا بات تھی، تائی ایسری کو قطعاً اپنی زندگی برباد ہونے کا کوئی غم نہ تھا۔ ان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا تھا۔ جیسے انہیں اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ کسی نے ان کی زندگی برباد کی ہے…. ہر وقت ہنستی کھیلتیں باتیں کرتیں، ہر ایک کے سکھ اور دکھ میں شامل ہونے اور خدمت کرنے کے لیے تیار نظر آتیں۔

یہ تو بالکل ناممکن تھا کہ پڑوس میں کسی کے ہاں خوشی ہو اور وہ اس میں شریک نہ ہوں۔ کسی کے ہاں کوئی غم ہو اور وہ اس میں حصہ نہ بٹائیں۔ تائی ایسری کے شوہر امیر تھے، مگر وہ خود تو امیر نہ تھیں۔ پچھتر روپے جو انہیں ماہوار ملتے تھے وہ انہیں ہمیشہ دوسروں پر خرچ کر دیتی تھیں۔ مگر وہ سستے زمانے کے پچھتر روپے تھے۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کے دکھ درد، دور ہو جاتے تھے۔ مگر لوگ ان سے ان کی وقت بے وقت کی مدد کی وجہ سے پیار نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی بہت سے موقع آتے تھے، جب تائی ایسری کی جیب میں ایک چھدام تک نہ ہوتا تھا۔ اس وقت بھی لوگ بے مزہ نہ ہوئے بلکہ یہی کہتے سنے گئے کہ تائی ایسری کے چرن چھو لینے ہی سے دل کو شانتی مل جاتی ہے۔

مگر جتنی اچھی تائی ایسری تھیں، تایا یودھ راج اتنے ہی برے تھے۔ تیس برس تک تو انہوں نے تائی ایسری کو اپنے ماں باپ کے گھر گاؤں ہی میں رکھا اور جب ان کے ماں باپ دونوں ہی مرگئے اور گھر خالی ہوگیا، گھر کے دوسرے افراد بڑے ہوگئے اور شادیاں کرکے اور اپنے گھر بساکے دوسری جگہوں پر چلے گئے تو انہیں بادل نخواستہ تائی ایسری کو بھی جالندھر بلوانا پڑا۔ مگر یہاں تائی ایسری چند دنوں سے زیادہ نہ رہ سکیں۔ کیونکہ پکا باغ کے معزز پٹھانوں کی ایک لڑکی سے تایا یودھ نے یارانہ گانٹھنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجہ میں انہیں جالندھر سے بھاگ کر لاہور آنا پڑا، کیوں کہ پکا باغ کے پٹھانوں نے آکر تائی ایسری سے کہہ دیا تھا کہ صرف تمہاری وجہ سے ہم نے اسے زندہ چھوڑ دیا ہے۔ اب بہتر یہی ہے کہ تم اپنے گھر والے کو لے کر کہیں چلی جاؤ ورنہ ہم اسے زندہ نہ چھوڑیں گے اور تائی ایسری اس واقعہ کے چند روز بعد ہی تایا کو لے کر لاہور آگئیں۔ محلہ ونجاراں میں انہوں نے ایک چھوٹا سا مکان لے لیا تھا۔ خوش قسمتی سے یا بدقسمتی سے یہاں بھی تایا یودھ راج کا بیوپار چند مہینوں میں چمک گیا۔ اسی اثناء میں انہوں نے شاہی محلے کی ایک طوائف لچھمی سے دوستی کرلی اور ہوتے ہوتے یہ قصہ یہاں تک بڑھا کہ اب انہوں نے مستقل طور پر اسی لچھمی کے گھر رہنا شروع کردیا تھا اور محلہ ونجاراں میں قدم تک نہ دھرتے تھے۔ لیکن تائی ایسری کو دیکھ کر کبھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ انہیں اس امر کا اتا سا بھی ملال ہوا ہو گا۔

یہ وہ زمانہ تھا، جب تایا یودھ راج اور لچھمی طوائف کا قصہ زوروں پر تھا۔ انہی دنوں ہمارے بڑے بھائی کی شادی ہوئی۔ شادی میں تایا یودھ راج تو شریک نہ ہوئے، لیکن تائی نے رشتہ داروں، مہمانوں اور برات کی خدمت گزاری میں دن رات ایک کردیا۔ ان کی خوش مزاجی سے پیچیدہ سے پیچیدہ گتھیاں بھی سلجھ گئیں۔ چہرے پر چڑھی ہوئی تیوریاں اتر گئیں اور جبینیں شکنوں سے صاف اور منور ہوتی گئیں۔ اس میں تائی کی کاوش کو کوئی دخل نہ تھا۔ سکون کی شعاعیں گویا خودبخود ان کے جسم سے پھوٹتی تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی ہر ایک کا غصہ اتر جاتا۔ پیچیدہ سے پیچیدہ الجھنیں خودبخود سلجھ جاتیں۔ گھر بھر میں بشاشت بکھر جاتی، ایسی تائی ایسری۔

میں نے تائی ایسری کو کبھی کسی کی برائی کرتے نہیں دیکھا۔ کبھی قسمت کا گلہ کرتے نہیں دیکھا۔ ہاں ایک بار ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی تھی اور وہ واقعہ اسی شادی سے متعلق ہے۔

بڑے بھائی صاحب تو رات بھر شادی کی بیری پر بیٹھے رہے۔ صبح کے پانچ بجے شادی کے بعد لڑکی والوں نے اپنے گھر کے ہال کو جہیز کا سامان دکھانے کے لیے سجادیا۔ پرانے زمانے تھے۔ اس زمانے میں صوفوں کی بجائے رنگین پیڑھیاں دی جاتی تھیں اور منقش پایوں والے پلنگ دیئے جاتے تھے۔ اس زمانے میں ڈرائنگ روم کو بیٹھک یا دیوان خانہ کہا جاتا۔ میرے بڑے بھائی کے سسر ملٹری میں ایگزیکٹو آفیسر تھے۔ چونکہ وہ پہلے ہندوستانی ایگزیکٹو آفیسر تھے۔ اس لیے انہوں نے جہیز میں بہت کچھ دیا تھا اور ساری ہی نئے فیشن کی چیزیں دی تھیں۔ ہماری برادری میں پہلی بار جہیز میں صوفہ سیٹ دیا گیا۔ ساری برادری میں اس صوفہ سیٹ کی دھوم مچ گئی۔ دور دور کے محلوں سے بھی عورتیں ’’انگریجی پیڑھیوں‘‘ کو دیکھنے کے لیے آنے لگیں۔ تائی ایسری کے لیے بھی صوفہ سیٹ دیکھنے کا پہلا موقع تھا۔ پہلے تو بڑی حیرانی سے اسے دیکھتی رہیں۔ اس پر ہاتھ پھیر کر من ہی من میں کچھ بڑبڑاتی رہیں۔ آخر ان سے رہا نہ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھ ہی لیا:
’’وے کاکا! اس کو صوفہ سیٹ کیوں بولتے ہیں؟‘‘

اب میں اس کا جواب کیا دیتا۔ سر ہلا کر کہنے لگا: ’’مجھے نہیں معلوم تائی!‘‘

’’اچھا تو اس کی دو کرسیاں چھوٹی کیوں ہیں اور وہ تیسری کرسی لمبی کیوں ہے؟‘‘

میں پھر لاجواب ہوگیا۔ خاموشی سے انکار میں سر ہلا دیا۔

تائی دیر تک سوچتی رہیں۔ پھر یکایک جیسے ان کی سمجھ میں کچھ آگیا۔ ان کا چہرہ، ان کی معصوم سی مسکراہٹ سے روشن ہو اٹھا۔ بولیں: ’’میں بتاؤں؟‘‘

’’میں نے کہا: ’’بتاؤتائی!‘‘

وہ ہم سب کو بچوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولیں: ’’دیکھو، میرا خیال ہے کہ یہ لمبا صوفہ تو اس لیے بنا ہے کہ جب دونوں میاں بیوی میں صلح ہو تو وہ دونوں اس لمبے صوفے پر بیٹھیں اور جب ان دونوں میں لڑائی ہو تو الگ الگ ان دو چھوٹے چھوٹے صوفوں پر بیٹھیں۔ سچ مچ یہ انگریز بڑے عقل مند ہوتے ہیں جبھی تو ہم پر حکومت کرتے ہیں۔‘‘

تائی کی دلیل سن کر محفل میں ایک زوردار قہقہہ پڑا۔ مگر میں نے دیکھا کہ تائی یہ سوچ کر اور بات کہہ کر چپ سی ہوگئیں۔ کیا اس وقت انہیں اپنا اور اپنے خاوند کا جھگڑا یاد آیا تھا۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا۔

میں نے جب غور سے ان کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک پل کے لیے مجھے ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک نظر آئی۔ پھر مجھے محسوس ہوا، جیسے دریا کا پاٹ بہت چوڑا ہوگیا ہو۔

کلکتہ سے ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کرنے کے بعد میں نے وہیں ایک بنگالی لڑکی سے شادی کرلی اور دھرم تلے میں پریکٹس کرنے لگا۔ کئی سال کوشش کرتا رہا مگر پریکٹس نہ چلی۔ چنانچہ اپنے بڑے بھائی کے اصرار پر لاہور چلا آیا۔ بھائی صاحب نے کوچہ ٹھاکر داس کے نکڑ پر مجھے دوکان کھول دی اور میں اپنے گھر میں یعنی اپنے محلے میں اپنی برادری ہی کے سہارے پریکٹس چلانے لگا۔ کلکتہ میں، میں بالکل اناڑی تھا اور زندگی کا تجربہ بھی نہ تھا۔ یہاں آکر جب آٹھ دس برسوں میں گاہک کو پھانسنے کی ترکیب سمجھ میں آئی تو پریکٹس خود بخود چل نکلی۔ اب دن رات مصروف رہتا تھا۔ بچے بھی ہوگئے تھے۔ اس لیے زندگی سوت کی انٹی کی طرح ایک ہی مدار پر چکر کھانے لگی۔ ادھر ادھر جانے کا موقع کم ملتا تھا۔ اب تو کئی برس سے تائی ایسری کا منہ نہ دیکھا تھا، مگر اتنا سن رکھا تھا کہ تائی ایسری اس مکان میں محلہ ونجاراں میں رہتی ہیں اور تایا یودھ راج شاہی محلے میں اسی لچھمی کے مکان میں رہتے ہیں اور کبھی کبھی دوسرے تیسرے مہینے تائی ایسری کی خبر لینے آجاتے ہیں۔

ایک روز میں صبح کے وقت مریضوں کی بھیڑ میں بیٹھا نسخے تجویز کررہا تھا کہ محلہ ونجاراں کے ایک آدمی نے آ کر کہا: ’’جلدی چلیے ڈاکٹر صاحب، تائی ایسری مر رہی ہیں!‘‘

میں اسی وقت سب کام چھوڑ چھاڑ کر اس آدمی کے ساتھ ہولیا۔ محلہ ونجاراں کے بالکل اس آخری سرے پر تائی ایسری کا مکان تھا۔ پہلی منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر جب میں آہنی سلاخوں والے موکھے سے گزر کر ان کے نیم تاریک کمرہ میں داخل ہوا تو وہ بڑے بڑے تکیوں کا سہارا لیے پلنگ سے لگی بیٹھی تھیں۔ ان کی سانس زور زور سے چل رہی تھی اور انہوں نے بڑے زور سے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں طرف گویا اپنے دل کو پکڑ رکھا تھا۔ مجھے دیکھ کر ہی وہ پھولے پھولے سانسوں میں مسکرانے لگیں۔ بولیں: ’’تو آگیا پتر۔ اب میں بچ جاؤں گی۔‘‘

’’کیا تکلیف ہوگئی ہے تائی؟‘‘

’’ہوتا کیا، موت کا بلاوا آگیا تھا۔ دو دن مجھے سخت کس (بخار) رہی۔ پھر ایکا ایکی جسم ٹھنڈا ہونے لگا۔ (بیان کرتے کرتے تائی کی آنکھوں کی پتلیاں پھیلنے لگیں) پہلے ٹانگوں سے جان گئی۔ ٹانگوں کو ہاتھ لگاؤ تو ٹھنڈی یخ، چٹکی بھرو تو کچھ محسوس نہ ہو، پھر دھیرے دھیرے میری جان کمر سے نکل گئی اور جب میری جان اوپر سے بھی نکلنے لگی تو میں نے زور سے اپنے کلیجہ کو پکڑلیا۔‘‘

تائی اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں طرف اپنے دل والے حصے کو اور زور سے پکڑ کر بولیں: ’’تو میں نے زور سے اپنے کلیجہ کو پکڑلیا اور چلائی، ارے کوئی ہے، کوئی ہے تو جائے اور جے کشن کے بیٹے رادھا کشن کو بلا کے لائے۔ وہی مجھے ٹھیک کر سکتا ہے…. اب تم آ گئے ہو، اب…. اب میں بچ جاؤں گی۔ ‘‘تائی ایسری نے مکمل طمانیت سے کہا۔

میں نے اپنا ہاتھ تائی کے دائیں ہاتھ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’تائی ذرا اپنا یہ ہاتھ ادھر کرو، تمہاری نبض تو دیکھوں۔‘‘

ایک دم تائی دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ جھٹک کر بولیں: ’’ہائے وے تم کیسے ڈاکٹر ہو، تجھے اتنا نہیں معلوم کہ اس ہاتھ سے تو میں نے اپنی جان پکڑ رکھی ہے، اس ہاتھ کی نبض تجھے کیسے دکھاسکتی ہوں۔ ‘‘

تائی چند ہفتوں میں اچھی ہوگئیں۔ انہیں بلڈ پریشر کی شکایت تھی۔ جب وہ جاتی رہی تو پھر اٹھ کر گھومنے لگیں اور اپنے پرائے سب کے سکھ دکھ میں بدستور شریک ہونے لگیں۔ لیکن جب وہ اچھی ہوئیں تو اس کے چند ماہ بعد ہمارے تایا یودھ راج کا انتقال ہوگیا۔ وہیں لچھمی کے گھر شاہی محلے میں ان کا انتقال ہوا۔ وہیں سے ان کی ارتھی اٹھی کیوں کہ تائی نے ان کی لاش کو گھر لانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ تائی نہ ارتھی کے ساتھ گئیں نہ انہوں نے شمشان گھاٹ کا رخ کیا نہ ان کی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ تک نکلا تھا۔ انہوں نے خاموشی سے اپنے سہاگ کی چوڑیاں توڑ ڈالیں۔ رنگین کپڑے اتارکر سپید دھوتی پہن لی اور ماتھے کی سیندور پونچھ کر چولہے کی راکھ اپنے ماتھے پر لگالی۔ مگر ان کے دھرم کرم میں اور کسی طرح کا فرق نہ آیا بلکہ اپنے سفید بالوں سے وہ اب اس سفید دھوتی میں اور بھی اچھی لگ رہی تھیں۔ تائی کی اس حرکت پر برادری میں چہ میگوئیاں ہوئیں، سب کو اچنبھا ہوا۔ کچھ لوگوں نے برا بھی مانا۔ مگر تائی کی عزت اس قدر تھی کہ ان کے سامنے زبان کھولنے کی کسی کو ہمت نہ پڑی!

چند برس اور گزر گئے۔ اب میری پریکٹس اس قدر چمک اٹھی تھی کہ میں نے محلہ ٹھاکر داس کے شاہ عالمی گیٹ کے اندر کوچہ کرماں اور وچھو والی کے چوک میں بھی پریکٹس شروع کردی تھی۔ صبح میں محلہ ٹھاکر داس میں بیٹھتا تھا، شام کو وچھو والی میں۔ زندگی کچھ اس نہج سے گزر رہی تھی کہ تائی ایسری کو دیکھے ہوئے ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو برس گزر جاتے تھے، مگر گھر کی عورتوں سے تائی ایسری کی خبر ملتی رہتی تھی۔ تایا یودھ راج نے اپنے بینک کا روپیہ بھی لچھمی کو سونپ دیا تھا۔ مگر جالندھر کی دکان اور مکان تائی ایسری کے نام لکھ گئے تھے۔ ان سے ہر ماہ تائی ایسری کو ڈیڑھ سو روپیہ کرایہ آ جاتا تھا۔ وہ بدستور اسی طرح محلہ ونجاراں میں رہتی تھیں اور دن رات اپنے دھرم کرم میں ڈوبی رہتی تھیں۔

ایک روز اتفاق سے جب میں شاہی محلے میں ایک مریض کو دیکھ کر لوٹ رہا تھا تو مجھے تایا یودھ راج کی یاد آگئی اور ان کی یاد سے لچھمی کی یاد آگئی۔ کیونکہ لچھمی بھی تو اسی شاہی محلہ میں کہیں رہتی تھی اور جب لچھمی کی یاد آئی تو میرا ذہن فوراً تائی ایسری کی طرف منتقل ہوگیا اور میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے لگا۔ غالباً بارہ پندرہ مہینوں سے میں تائی ایسری کو دیکھنے نہ گیا تھا۔ میں نے سوچا میں کل یا پرسوں پہلی فرصت ہی میں تائی ایسری کو دیکھنے جاؤں گا۔

ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ شاہی محلے کی ایک گلی سے میں نے تائی ایسری کو نکلتے دیکھا۔ قرمزی شاہی کے بجائے اب وہ سیاہ شاہی کا گھاگھرا پہنے تھیں جس پر نہ گوٹہ تھا نہ لچکا۔ قمیض بھی سفید رنگ کی تھی اور سر پر انہوں نے سفید ململ کا دوہرا دوپٹہ لے رکھا تھا۔ جس میں ان کا گول مٹول چہرہ بالکل میڈونا کی طرح معصوم اور پراسرار نظر آ رہا تھا۔

جس لمحہ میں نے انہیں دیکھا اسی لمحہ انہوں نے بھی مجھے دیکھا اور مجھے دیکھتے ہی وہ شرما سی گئیں اور فوراً مجھ سے کتراکر واپس گلی میں جانے لگیں کہ میں نے انہیں فوراً آواز دے دی۔ میری آواز میں ایک ایسی حیرت تھی جو ایک چیخ سے مشابہ تھی۔ یہ تائی ایسری یہاں طوائفوں کے محلے میں کیا کررہی تھیں؟

’’تائی ایسری!‘‘ میں نے چلاکر کہا۔ ’’تائی ایسری!‘‘ میں نے پھر آواز دی۔

میری آواز سن کر وہ پلٹ آئیں۔ سامنے آ کر ایک گنہگار مجرم کی طرح کھڑی ہوگئیں۔ ان کی نگاہیں اوپر نہ اٹھتی تھیں۔

’’تائی ایسری تم یہاں کیا کرنے آئی ہو؟‘‘ میں نے کچھ حیرت سے کچھ غصے سے ان سے کہا۔

وہ اسی طرح سر نیچا کیے آہستہ آہستہ جھجکتے جھجکتے بولیں: ’’وے پتر! کیا بتاؤں وہ…. وہ…. میں نے سنا تھا کہ لچھمی بیمار ہے، بہت سخت بیمار ہے۔ میں نے سوچا اسے دیکھ آؤں….!‘‘

’’تم یہاں لچھمی کو دیکھنے آئی تھیں؟‘‘ میں نے غم اور غصے سے تقریباً چیخ کر کہا۔

’’لچھمی کو…. لچھمی کو…. اس بد ذات چھنال کو؟…. جس نے…. جس نے!‘‘

تائی ایسری نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا اور میں کہتے کہتے رک گیا…. ’’نہ کاکا! اس کو کچھ نہ کہو…. کچھ نہ کہو….!‘‘ تائی ایسری نے اپنی ڈبڈباتی ہوئی آنکھیں اوپر اٹھائیں اور ایک ٹھنڈی سانس لے کر بولیں:
’’مرنے والے کی یہی ایک نشانی رہ گئی تھی۔ آج وہ بھی چل بسی!‘‘

سن 47ءکے فسادات میں ہم لوگ لاہور چھوڑ کر جالندھر میں پناہ گزین ہوئے۔ کیوں کہ یہاں پر تائی ایسری کا گھر تھا۔ خاصا کھلا دو منزلہ گھر تھا۔ اوپر کی منزل انہوں نے اپنے رشتہ دار پناہ گزینوں کو دے ڈالی تھی۔ نچلی منزل میں وہ خود رہتی تھیں۔ ہر روز وہ ریفیوجی کیمپوں میں سیوا کرنے جاتیں اور کبھی کبھار دو ایک یتیم بچے اٹھا لاتیں۔ چار پانچ ماہ ہی میں انہوں نے چار لڑکے اور تین لڑکیاں اپنے پاس رکھ لیں۔ کیوں کہ ان کے ماں باپ کا کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ پچھواڑے کے آنگن اور سامنے دالان میں انہوں نے مختلف پناہ گزینوں کو سونے اور کھانا پکانے کی اجازت دے دی تھی۔ ہوتے ہوتے ایک اچھا خاصا گھر سرائے میں تبدیل ہوگیا۔ مگر میں نے تائی ایسری کے ماتھے پر کبھی ایک شکن نہیں دیکھی۔ وہ اپنے گھر میں بھی باہر سے اس طرح آتی تھیں جیسے وہ گھر ان کا نہ ہو، ان پناہ گزینوں کا ہو جنہیں انہوں نے اپنے گھر میں رہنے کی خود اجازت دی تھی۔ عورتوں میں شخصی جائیداد کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ مگر میں نے عورتوں میں تو کیا مردوں میں بھی ایسا کوئی فرد مشکل ہی سے دیکھا ہو گا۔ جسے تائی ایسری کی طرح شخصی جائیداد کا اس قدر کم احساس ہو۔ قدرت نے ان کے دماغ میں شاید یہ خانہ ہی خالی رکھا تھا۔ ان کے پاس جو کچھ تھا دوسروں کے لیے وقف تھا۔ جالندھر آ کر وہ صرف ایک وقت کھانا کھانے لگی تھیں۔ میں ان کی ان حرکتوں سے بہت چڑتا تھا۔ کیونکہ میں نے اپنی قیمتی پریکٹس لاہور میں کھو دی تھی۔ میری ماڈل ٹاؤنوالی کوٹھی بھی وہیں رہ گئی تھی اور اب میرے پاس سر چھپانے کو کہیں جگہ نہ تھی۔ میرے پاس نہ ڈھنگ کے کپڑے تھے نہ روپیہ پیسہ تھا، نہ کھانا پینا تک کا ہوسکتا تھا۔ جو ملا کھالیا، جب ملا کھالیا، نہ ملا تو بھوکے رہ گئے۔ انہی دنوں مجھے خونی بواسیر لاحق ہوگئی۔ دوائیں تو میں نے طرح طرح کی استعمال کیں کیونکہ میں خود ڈاکٹر تھا۔ مگر اس بے سر و سامانی میں علاج کے ساتھ پرہیز ضروری ہے، وہ کہاں سے ہوتا۔ نتیجہ ہوا کہ میں دن بدن کمزور ہوتا چلا گیا۔ کچھ روز تک تو میں نے تائی سے اپنی حالت کو چھپائے رکھا مگر ایک دن انہیں پتا چل ہی گیا۔ فوراً گھبرائی گھبرائی میرے پاس پہنچیں اور مجھ سے کہنے لگیں…. ’’کاکا! میں تم سے کہتی ہوں یہ خونی بواسیر ہے۔ یہ ڈاکٹری علاج سے ٹھیک نہ ہو گی۔ تم ایسا کرو، کرایہ مجھ سے لو اور سیدھے گوجرانوالہ چلے جاؤ، وہاں محلہ سنیاراں میں چاچا کریم بخش جراح رہتا ہے۔ اس کے پاس ایک ایسی دوائی ہے جس سے خونی بواسیر ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تیرے تایا کو بھی آج سے بیس سال پہلے یہ تکلیف ہوگئی تھی اور چاچا کریم بخش ہی نے ٹھیک کر دیا تھا۔ دس دن میں وہ ٹھیک ہو کر گوجرانوالہ سے جالندھر آگئے تھے۔‘‘

یہ سن کر مجھے بے حد غصہ آیا۔ میں نے کہا: ’’تائی مجھے معلوم ہے۔ اب میں گوجرانوالہ نہیں جاسکتا۔‘‘

’’کیوں نہیں جاسکتا؟ ٹکٹ کے پیسے میں دیتی ہوں!‘‘

’’ٹکٹ کا سوال نہیں ہے، گوجرانوالہ اب پاکستان میں ہے۔‘‘

’’پاکستان میں ہے تو کیا ہوا؟ کیا ہم دوا دارو کے لیے وہاں نہیں جاسکتے! وہاں اپنا چاچا کریم بخش….!‘‘

میں نے تائی کی بات کاٹ کر کہا: ’’تائی تجھے کچھ معلوم تو ہے نہیں، خواہ مخواہ الٹی سیدھی باتیں کرتی ہو۔ مسلمانوں نے اب اپنا دیس الگ کرلیا ہے۔ اس کا نام پاکستان ہے۔ ہمارے دیس کا نام ہندوستان ہے۔ اب نہ ہندوستان والے پاکستان جاسکتے ہیں، نہ پاکستان والے یہاں آسکتے ہیں۔ اس کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہو گی!‘‘

تائی کے ماتھے پر شکنیں پڑگئیں۔ بولیں: ’’پاس کورٹ؟ کیا اس کے لیے کچہری جانا پڑتا ہے؟‘‘

’’ہاں ہاں اس کے لیے کچہری جانا پڑتا ہے۔‘‘ میں نے جلدی سے ٹالنے کے لیے کہہ دیا۔ اب اس بڈھی کو کون سمجھائے۔

’’نہ بیٹا۔ کورٹ جانا تو اچھا نہیں ہے۔ شریفوں کے بیٹے کبھی کچہری نہیں جاتے، مگر وہ چاچا کریم بخش….!‘‘

’’بھاڑ میں جائے چاچا کریم بخش۔‘‘ میں نے چلا کر کہا۔

”بیس سال پہلے کی بات کرتی ہو، جانے وہ تمہارا چاچا کریم بخش آج زندہ بھی ہے یا مر گیا ہے۔ مگر تم وہی اپنا چاچا کریم بخش رٹے جارہی ہو۔ ‘‘

تائی روتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔ ان کے جانے کے بعد مجھے اپنی تنک مزاجی پر بے حد افسوس ہوا۔ کیوں میں نے اس معصوم عورت کا دل دکھایا۔ اگر تائی آج کی زندگی کی بہت سی دشواریوں کو نہیں سمجھ سکتی ہیں تو اس میں ان کا کیا قصور ہے؟

دراصل میں ان دنوں بہت ہی تلخ مزاج ہو چلا تھا۔ کالج کے دنوں میں، میں اکثر انقلاب کی باتیں کیا کرتا تھا۔ پھر جب زندگی نے مجھے کامرانی بخشی اور میری پریکٹس چل نکلی تو انقلاب کا جوش سرد پڑ گیا اور ہوتے ہوتے یہ لفظ میرے ذہن سے محو ہوگیا۔ اب جالندھر آ کر جو یہ افتاد پڑی تو میرے دل میں پھر سے انقلاب کے خیال نے کروٹ لی اور میں اپنی طرح کے چند جوشیلے اور لٹے پٹے لوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر پھر سے اسی تلخی، تیزی اور تندی سے انقلاب کی باتیں کرنے لگا۔

یہ سب لوگ اکثر تائی ایسری کی دوسری منزل میں میرے کمرے میں ملتے۔ چائے کا دور چلتا اور دنیا جہان کی باتیں ہوتیں اور میں جوش میں اپنا مکا ہوا میں لہراکر کہتا ”ہم سے انصاف نہیں ہورہا ہے اور ان لوگوں سے انصاف کی توقع بھی نہیں ہے۔ یقیناً اس ملک میں پھر ایک انقلاب آئے گا اور ضرور آ کے رہے گا وہ انقلاب!“

ایک دن تائی ایسری نے ہماری باتیں سن لیں تو گھبرائی گھبرائی اندر آئیں۔ بولیں: ’’بیٹا! کیا مسلمان یہاں پھر آئیں گے؟‘‘

’’نہیں تائی، تم سے کس نے کہا؟‘‘

’’تو تم یہاں کس انقلاب کا ذکر کررہے ہو جو یہاں آئے گا؟‘‘

تائی نے انقلاب کو مسلمان سمجھا تھا، جب یہ بات ہماری سمجھ میں آئی تو ہم سب ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے۔

’’کتنی بھولی ہے ہماری تائی۔ اری تائی، ہم تو اس انقلاب کا ذکر کررہے ہیں جو نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے، جو سب کا انقلاب ہے۔ ہم تو اس انقلاب کو لانا چاہتے ہیں۔‘‘

مگر تائی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ وہ ہولے سے سر ہلاکر بولیں:
’’اچھا تم لوگ باتیں کرو۔ میں تمہارے لیے چائے بناکے لاتی ہوں۔‘‘

تائی نے میری مدد کرنے کے لیے اپنا سولہ تولے کا ایک گوکھرو بیچ دیا۔ اس رقم کو لے کر میں اپنی فیملی کے ساتھ دہلی آگیا۔ کیونکہ جالندھر میں افراتفری تھی اور غیریقینی سی حالت ہر وقت چھائی رہتی تھی۔ دہلی آکر میں نے پھر سے پریکٹس شروع کردی۔ چند سالوں ہی میں میری پریکٹس پھر چمک اٹھی۔ میں قرول باغ میں پریکٹس کرتا تھا اور قرول باغ لاہور کے بہت سے ریفیوجیوں سے بھرا پڑا تھا جو مجھے جانتے تھے۔ ہولے ہولے میں نے اپنا اڈہ ٹھیک سے جمالیا۔ پریکٹس چمک اٹھی، دس سال میں میں نے قرول باغ میں اپنی کوٹھی کھڑی کرلی۔ گاڑی بھی خریدلی۔ اب قرول باغ کے سر کر دہ افراد میں میرا شمار ہوتا تھا۔ اب میں انقلاب کی باتیں بھول بھال گیا۔ میری خونی بواسیر بھی ٹھیک ہوگئی اور تلخی کے بجائے مزاج میں شگفتگی عود کر آئی جو ایک ڈاکٹر کے مزاج کے لیے از حد ضروری ہے۔

تیرہ سال کے بعد گزشتہ مارچ میں مجھے ایک عزیز کی شادی میں جالندھر جانا پڑا۔ اس تیرہ سال کے عرصہ میں، میں تائی ایسری کو بھول بھال گیا تھا۔ رشتہ دار تو اس وقت یاد آتے ہیں، جب مریض نہ ہوں۔ لیکن جالندھر پہنچتے ہی مجھے تائی ایسری کی یاد آئی۔ ان کے احسانات یاد آئے۔ وہ سونے کا گوکھرو یاد آیا، جسے بیچ کر میری پریکٹس چلانے کی رقم بہم پہنچائی گئی تھی اور وہ رقم میں نے آج تک تائی ایسری کو ادا نہیں کی تھی۔ جالندھر اسٹیشن پر اترتے ہی میں سیدھا تائی ایسری کے گھر چلا گیا۔

شام کا جھٹپٹا تھا، ہوا ایندھن کے دھوئیں، تیل کی بو اور گھر واپس آتے ہوئے بچوں کی آوازوں سے معمور تھی۔ جب میں تائی ایسری کے مکان کی نچلی منزل میں داخل ہوا۔ گھر میں اس وقت تائی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے گھر میں بھگوان کی مورتی کے سامنے گھی کا دیا جلائے پھول چڑھاکر ہاتھ جوڑ کر واپس گھوم رہی تھی، جب کہ انہوں نے میری آہٹ پاکر پوچھا:
’’کون ہے؟‘‘

’’میں ہوں!‘‘ میں نے کمرہ میں قدم آگے بڑھاکر مسکراتے ہوئے کہا۔

تائی دو قدم آگے بڑھیں، مگر مجھے پہچان نہ سکیں۔ تیرہ برس کا عرصہ بھی ایک عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصہ میں وہ بے حد نحیف و نزار ہوگئی تھیں۔ ان کا چہرہ بھی دبلا ہوگیا تھا اور وہ ہولے ہولے قدم اٹھاتی تھیں۔

’’میں رادھا کشن ہوں۔‘‘

’’جے کشن دا کاکا؟‘‘ تائی کی آواز بھراگئی۔ ممکن تھا وہ جلدی سے آگے بڑھنے کی کوشش میں گر پڑتیں۔ مگر میں نے انہیں جلدی سے تھام لیا اور وہ میرے بازو سے لگ کر رونے لگیں۔ انہوں نے میری بلائیں لیں، میرا منہ چوما، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولیں:
’’اتنے دن کہاں رہے بیٹا؟ اپنی تائی کو بھی بھول گئے؟‘‘

انتہائی شرمندگی سے میرا سر جھک گیا۔ میں نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر کچھ کہہ نہ سکا۔ تائی نے میری پریشانی کو فوراً بھانپ لیا۔ جلدی سے پھولے پھولے سانسوں میں اکھڑے اکھڑے لہجہ میں بولیں: ’’سروج راضی خوشی ہے نا؟‘‘

’’ہاں تائی۔‘‘

’’اور وڈا کاکا؟‘‘

’’ڈاکٹری میں پڑھتا ہے۔‘‘

’’اور نکا؟‘‘

’’کالج میں پڑھتا ہے۔‘‘

’’اور شانو اور بٹو؟‘‘

’’وہ دونوں بھی کالج میں پڑھتی ہیں۔ کملا کی میں نے شادی کر دی ہے!‘‘

’’میں نے بھی ساوتری کی شادی کردی ہے۔ پورن اب رڑکی میں پڑھتا ہے۔ نمی اور بنی کے ماں باپ مل گئے تھے وہ آکر ان کو چھ سال کے بعد لے گئے تھے۔ کبھی کبھی ان کی چٹھی پتری آجاتی ہے۔ میرے پاس اب صرف گوپی رہ گیا ہے۔ اگلے سال وہ بھی ریلوے ورکشاپ میں کام سیکھنے کے لیے چلا جائے گا۔‘‘

یہ تائی کے ان یتیم بچوں کی داستان تھی جو انہوں نے فساد میں لے کر پالے تھے۔

میں نے ناخن سے اپنی ٹھوڑی کھجاتے کھجاتے کہا: ’’تائی وہ تیرا قرضہ مجھ پر باقی ہے، کیسے بتاؤں کتنا شرمندہ ہوں، اب تک نہ بھیج سکا۔ اب دلی جاتے ہی بھیج دوں گا۔‘‘

’’کیسا قرضہ بیٹا؟‘‘ تائی نے حیران ہوکر پوچھا۔

’’وہی گوکھرو والا!‘‘

’’اچھا وہ؟‘‘ یکایک تائی کو یاد آیا اور وہ بڑے میٹھے انداز میں مسکرانے لگیں۔ پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولیں: ’’وہ تو تیرا قرضہ تھا بیٹا، جو میں نے چکا دیا!‘‘

’’میرا قرضہ کیسا تھا تائی؟‘‘ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔

’’یہ زندگی دوسروں کا قرضہ ہے بیٹا۔‘‘ تائی سنجیدہ رو ہو کر بولیں: ’’اسے چکاتے رہنا چاہیے۔ تو کیا اس سنسار میں خود پیدا ہوا تھا؟ نہیں، تجھے تیرے ماں باپ نے زندگی دی تھی تو پھر تیری زندگی کسی دوسرے کا قرضہ ہوئی کہ نہیں؟ پھر یہ قرضہ ہم نہیں چکائیں گے تو یہ دنیا آگے کیسے چلے گی۔ ایک دن پرلے (قیامت) آجائے گی…. بیٹا۔ اسی لیے تو کہتی ہوں، میں نے تیرا قرضہ چکایا ہے تو کسی دوسرے کا قرضہ چکا دے…. ہر دم چکاتے رہنا، جیون کا دھرم ہے۔‘‘ تائی اتنی لمبی بات کرکے ہانپنے لگیں۔

میں کیا کہتا، روشنی سے سایہ کہہ بھی کیا سکتا ہے؟ اسی لیے میں سب کچھ سن کر چپ ہو گیا۔ وہ بھی چپ ہو گئیں۔ پھر آہستہ سے بولیں: ’’اب میرے ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتے، ورنہ تیرے لیے کھانا پکاتی۔ اب گوپی آئے گا تو کھانا بنائے گا تیرے لیے۔ کھانا کھا کر جانا…. میں….‘‘

’’نہیں تائی اس کی کیا ضرورت ہے۔ وہاں بھی تیرا ہی دیا کھاتے ہیں۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا: ’’میں یہاں تیج پال کی شادی پر آیا تھا۔ اسٹیشن سے سیدھا تمہارے گھر آرہا ہوں۔ اب شادی والے گھر جاؤں گا۔‘‘

’’بلاوا تو مجھے بھی آیا ہے۔ مگر دو دن سے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے میں نہیں جاسکتی۔ شگن میں نے بھیج دیا تھا، تم میری طرف سے تیج پال کے سر پر پیار دینا!‘‘

’’بہت اچھا تائی‘‘…. کہہ کر میں تائی کے چرنوں میں جھکا۔ انہوں نے مجھے بڑے پیار سے اپنے گلے لگالیا۔ میرے سر پر ہاتھ پھیر کر سو سو دعائیں دے کر بولیں:

’’بیٹا! میرا ایک کام کروگے؟‘‘

’’حکم کرو تائی۔‘‘

’’کیا کل تم صبح آسکتے ہو؟‘‘

’’کیا بات ہے تائی، اب میں تمہیں مل کے تو جارہا ہوں۔ ‘‘

تائی جھجکتے جھجکتے بولیں: ’’میری آنکھیں کمزور ہوچکی ہیں۔ رات میں مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسا جنم جلا اندھیرا چھایا ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر تم صبح کسی وقت دن میں آ جاؤتو میں تمہیں اچھی طرح دیکھ لوں گی۔ تیرہ سال سے تجھے نہیں دیکھا ہے کاکا!‘‘

میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے گلو گیر لہجے میں کہا:
’’آ جاؤں گا تائی!‘‘

دوسرے دن بارات کے لوگ کچھ آنے والے تھے۔ صبح ہی ہم لوگوں کو پیشوائی کے لیے اسٹیشن پر جانا تھا۔ وہاں سے لوٹتے وقت مجھے یاد آیا۔ میں ان لوگوں سے معذرت کرکے تائی ایسری کے گھر کی طرف ہو لیا۔ گلی کے موڑ پر مجھے دو دو چار چار کی ٹولیوں میں لوگ سر جھکائے ملے۔ مگر میں جلدی جلدی سے قدم بڑھاتا ہوا آگے چلا گیا۔ مکان کی نچلی منزل پر مجھے اور بہت سے لوگ روتے ہوئے ملے۔ معلوم ہوا آج صبح تائی ایسری کی موت واقع ہوگئی اور جب ہم اسٹیشن گئے ہوئے تھے وہ چل بسی۔

اندر کمرے میں ان کی لاش پڑی تھی۔ ایک سفید چادر میں ملبوس، چہرہ کھلا رہنے دیا تھا۔ کمرہ میں کافور اور لوبان کی خوشبو تھی اور ایک پنڈت ہولے ہولے وید منتر پڑھ رہا تھا!

تائی ایسری کی آنکھیں بند تھیں اور ان کا معصوم بھورا بھورا چہرہ، پرسکون خاموش اور گہرے خوابوں میں کھویا ہوا ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ تائی ایسری کا چہرہ نہ ہو، دھرتی کا پھیلا ہوا لا متناہی چہرہ ہو۔ جس کی آنکھوں سے ندیاں بہتی ہیں۔ جس کی ہر شکن میں لاکھوں وادیاں انسانی بستیوں کو اپنی آغوش میں لیے مسکراتی ہیں۔ جس کے انگ انگ سے بے غرض پیار کی مہک پھوٹتی ہے، جس کی معصومیت میں تخلیق کی پاکیزگی جھلکتی ہے، جس کے دل میں دوسروں کے لیے وہ بے پناہ مامتا جاگتی ہے جس کا مزا کوئی کوکھ رکھنے والی ہستی ہی پہچان سکتی ہے۔

میں ان کے پاؤں کے قریب کھڑا ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یکایک کسی نے آہستہ سے میرے شانے پر ہاتھ رکھا…. میں نے پلٹ کر دیکھا تو میرے سامنے ایک بائیس تیئس برس کا نوجوان کھڑا تھا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ابھی روئی ہیں، ابھی پھر رو دیں گی۔

اس نے آہستہ سے کہا: ’’میں گوپی ناتھ ہوں۔‘‘

میں سمجھ تو گیا، مگر خاموش رہا۔ کچھ سمجھ بھی نہیں آتا تھا کیا کہوں کیا نہ کہوں۔

’’میں تیج پال کے گھر آپ کو ڈھونڈنے گیا تھا۔ مگر آپ اسٹیشن پر گئے ہوئے تھے۔‘‘

وہ پھر بولا۔

میں پھر بھی چپ رہا!

گوپی ناتھ دھیرے سے بولا: ’’صبح تائی نے آپ کو بہت یاد کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ آپ آنے والے ہیں۔ اس لیے وہ مرتے مرتے بھی آپ کا انتظار کرتی رہیں۔ آخر جب انہیں یقین ہوگیا کہ مرنے کا وقت آن پہنچا ہے اور آپ نہیں آئیں گے تو انہوں نے مجھ سے کہا: ”جب میرا بیٹا رادھا کشن آئے تو اسے یہ دے دینا۔‘‘

یہ کہہ کر گوپی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور میری ہتھیلی پر ایک چونی رکھ دی۔

چونی دیکھ کر میں رونے لگا۔

مجھے نہیں معلوم۔ آج تائی ایسری کہاں ہیں، لیکن اگر وہ سورگ میں ہیں تو وہ اس وقت بھی یقیناً ایک رنگین پیڑھی پر بیٹھی اپنی پچھی سامنے کھول کر بڑے اطمینان سے دیوتاؤں کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انہیں چونیاں ہی بانٹ رہی ہوں گی۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دنیا کے خفیہ ترین مقامات

آنندی- غلام عباس