میں

دنیا کے خفیہ ترین مقامات

سب سے زیادہ کشش کس چیز میں ہوتی ہے؟ جو ہماری دسترس سے باہر ہو اور اس پر سخت پابندی عائد ہو۔ بچپن میں بھی جن چیزوں سے روکا جاتا تھا، ان کا سحر ہمیشہ طاری رہا۔ سیاحوں کے لیے بھی وہ تمام مقامات بہت اہمیت رکھتے ہیں جہاں انہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے خفیہ مقامات کون سے ہیں؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں:

سوالبارڈ عالمی بیج گھر، ناروے (Svalbard Global Seed Vault):

تصور کیجیے کہ یہ کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے نتیجے میں یہ دنیا ہمیشہ کے لیے بدل جائے، زمین کی آبادی ختم ہو جائے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو جائےاور خوراک کے ذرائع مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔ جو شخص باقی بچے گا، اس کا ہدف کیا ہوگا؟ یہی کہ یہ سب دوبارہ بنایا جائے۔

اگر اس فلمی پس منظر میں سوچیں تو ‘ہیرو سب سے پہلے کہاں جائے گا؟ جی ہاں! وہ سوالبارڈ کے عالمی بیج گھر کا رخ کرے گا، جو ناروے میں واقع ہے۔ یہی خوراک کے کسی بھی عالمی بحران کے نتیجے میں انسانیت کی آخری پناہ گاہ ہوگی۔

جیسا کہ اس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ "عالمی بیج گھر” ہے، لیکن یہ انتہائی خفیہ مقام ہے۔ ناروے کے دور دراز جزیرے سپٹسبرجن (Spitsbergen) میں ایک پہاڑ کے اندر واقع ہے۔ قطب شمالی سے صرف 1300 کلومیٹر دور ایک پہاڑ میں 120 میٹر اندر واقع یہ ذخیرہ دنیا کا سب سے زیادہ محفوظ اور سخت پہرے میں رہنے والا "بیج گھر” ہے۔

فروری 2008ء میں کھولے گئے اس مقام میں دنیا بھر میں اُگنے والی 250 ملین فصلوں کے بیج موجود ہیں، جنہیں خاص اور انتہائی محفوظ پیک کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ یہ نمی سے محفوظ رہیں۔ لیکن اتنے اہم کام کے لیے اس مقام کا انتخاب ہی کیوں؟ کیونکہ یہاں زلزلے نہیں آتے، یہاں محفوظ رکھنے میں مددگار مستقل برف موجود ہے اور یہ مقام سطح سمندر سے 130 میٹر بلند ہے، یعنی اگر عالمی حدت کے نتیجے میں سمندروں کی سطح بلند بھی ہو تو یہ مقام محفوظ رہے گا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیج یہاں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں سالوں تک تو ضرور محفوظ رہیں گے۔ جب تک آپ مستند محقق نہ ہوں، تب تک آپ کو اس بیج گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی۔

نی ایہاؤ، ہوائی (Ni’ihau, Hawaii)

امریکا کے جزائر ہوائی میں آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا جزیرہ نی ایہاؤ ہے۔ یہاں کے دلفریب مناظر، ساحل، نایاب جانور اور سیاحوں کا رش نہ ہونا اسے ایک مثالی مقام بناتا ہے۔ لیکن ٹھیریے، 180 مربع کلومیٹر کے اس جزیرے پر بیرونی دنیا کے کسی بھی شخص کا داخلہ منع ہے۔

دراصل ہوائی کے بادشاہ نے 1863ء میں یہ جزیرہ مشہور رابن سن خاندان کو فروخت کردیا تھا اور 1915ء سے یہاں کسی دوسرے کا داخلہ ممنوع ہے۔ باقی دنیا سے کٹے ہوئے اس جزیرے پر مستقلاً کوئی 130 افراد ہی رہتے ہیں، جو مقامی ہیں۔ یہاں نہ یہاں سڑکیں ہیں، نہ ٹیلی فون، نہ ہی فراہمی و نکاسی آب کا کوئی نظام۔ نقل و حمل کے لیے گھوڑے اور سائیکلیں کام آتی ہیں اور بجلی کے لیے شمسی توانائی کا استعمال ہوتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں قریبی جزیروں سے آنے والی کشتیاں لاتی ہیں۔ اس جزیرے پر آپ اسی صورت میں جا سکتے ہیں، جب وہاں مقیم کوئی فرد آپ کو دعوت دے۔ اس کے علاوہ کسی کو ساحل پر اترنے تک کی اجازت نہیں۔

رائل ایئرفورس مینوتھ ہل، انگلینڈ (Royal Air Force Menwith Hill, England):

اگر جیمز بانڈ کا دنیا میں کوئی حقیقی وجود ہے اور اس کی کوئی خفیہ پناہ گاہ بھی ہے تو وہ یہی جگہ ہے۔ شمالی یارکشائر، انگلینڈ کی یہ فوجی بیس جسے دنیا میں سب سے بڑا الیکٹرانک مانیٹرنگ اسٹیشن سمجھا جاتا ہے۔

یہ انتہائی خفیہ بیس 1954ء میں سوویت یونین کی نگرانی کے لیے بنائی گئی تھی۔ آج تک کسی کو نہیں معلوم کہ یہ بیس کس کام میں آتی ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ اڈہ دہشت گردی کی بین الاقوامی سرگرمیوں اور منشیات کی تجارت کی تحقیقات کرتا ہے اور امریکی سیٹیلائٹس کے لیے زمینی اسٹیشن کا کام انجام دیتا ہے۔

ویٹی کن کے خفیہ محفوظات، ویٹی کن سٹی (Vatican Secret Archives, Vatican):

دنیا کی سب سے خفیہ لائبریری، ویٹی کن کے خفیہ محفوظات کوئی عام کتب خانہ نہیں ہیں۔ یہ آٹھویں صدی سے اب تک آنے والے تمام پاپائے روم کی ذاتی دستاویزات رکھتا ہے۔

1881ء سے آج تک یہ ویٹی کن سے وابستہ شخصیات کے علاوہ سب کے لیے بند ہیں۔ یہاں انتہائی خفیہ دستاویزات مقفل ہیں کہ جن تک رسائی حاصل کرنا انتہائی پیچیدہ اور بہت طویل عمل ہے۔ صرف مستند دانشوروں کو داخلے کا کارڈ دیا جاتا ہے۔ درخواست گزار دانشوروں کو اپنے بارے میں تمام ذاتی معلومات بتانا پڑتی ہیں اور یہ بھی کہ وہ یہ تحقیق کیوں کر رہے ہیں۔ پھر جس ادارے کی جانب سے تحقیق کر رہے ہیں اس کی جانب سے تعارفی خط بھی دینا ضروری ہے۔ اگر کسی خوش نصیب کو مل بھی جائے تو وہ کیا کیا دیکھے گا؟ یہاں کا کتب خانہ اتنا بڑا ہے کہ الماریوں کی کل لمبائی تقریباً 85 کلومیٹر ہے، جن میں 35 ہزار جلدیں موجود ہیں۔ پوپ لیو دہم کی جانب سے مارٹن لوتھر کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت سن 1521ء، چودہویں صدی کی نائٹس ٹیمپلر کے مقدمے کے نقول؛ مائیکل اینجلو اور ابراہم لنکن کے ساتھ پوپ کی خط و کتابت؛ اور چوتھی صلیبی جنگ طلب کرنے 1198ء میں پوپ کا جاری کردہ خط ان نایاب دستاویزات میں سے محض چند ہیں۔

ایریا 51، نیواڈا، امریکا (Area 51, Nevada):

ایریا 51 امریکا کی یہ ایک خفیہ فوجی بیس ہے جو انتہائی خفیہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں ہوتا کیا ہے؟ آج تک کسی کو کچھ نہیں معلوم اور نہ ہی سی آئی اے نے کبھی کچھ بتایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سازشی نظریات پھیلانے والوں کی "پسندیدہ” جگہ ہے۔ انہوں نے ایریا 51 کے بارے میں ایسی ایسی باتیں مشہور کر رکھی ہیں کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔

جیسا کہ یہاں پر سائنس دان خلائی مخلوق پر تجربے کر رہے ہیں، یا پھر جو اڑن طشتریاں پکڑی گئی ہیں ان پر یہاں تحقیق کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں عجیب و غریب ہتھیاروں کی تیاری کی باتیں اور نجانے کیا کیا؟ ویسے ہو بھی سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ باتیں ٹھیک بھی ہو۔ آخر ہمیں بھی تو نہیں معلوم کہ ایریا 51 میں ہوتا کیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

کس زمانے میں کون سی عمارت بلند ترین تھی؟

تائی ایسری – کرشن چندر