پیشہ ورانہ زندگی میں آپ کے کامیاب اور ناکام ہونے کا بہت زیادہ انحصار آپ کی ٹائم مینجمنٹ یعنی وقت کے منظم کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اپنے کسی اہم کام کو بر وقت مکمل کرنے کے لیے اس صلاحیت کو بروئے کار لانا ہی فی زمانہ بہت اہم ہے کیونکہ آجکل وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔وقت کا بہترین استعمال ناکام لوگوں سے سیکھیں
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صلاحیت کو سیکھنے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟ آئیے آپ کو راز کی بات بتاتے ہیں: ناکام لوگوں سے سیکھیں۔ آخر ناکام لوگوں سے کیسے سیکھا جا سکتا ہے؟ جی ہاں! انہیں دیکھیں، ان پر غور کریں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اس سے اجتناب کریں۔ آئیے آپ کو ناکام لوگوں کی کچھ عادات بھی بتاتے ہیں اور یہ بھی کہ آپ کو اس کے بجائے کیا کرنا چاہیے:
منصوبہ بندی نہ کرنا

پروفیشنل لائف یعنی پیشہ ورانہ زنگی میں کامیابی کا بڑا دار و مدار منصوبہ بندی پر ہوتا ہے۔ سیدھے الفاظ میں یہ کہ آپ وقت کو ضائع نہیں کرتے بلکہ وقت آپ کو ضائع کرتا ہے۔ ناکام لوگوں کی خاص نشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ ڈنگ ٹپاؤ ہوتے ہیں یعنی کل کی کل دیکھی جائے گی قسم کے۔ یہ کام کو الل ٹپ انداز میں کرتے ہیں، بس جان چھڑانے والی بات۔
اس لیے آپ ہر گز ایسا مت کریں۔ چاہے حالات آپ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں کیوں نہ محسوس ہو رہے ہوں، تب بھی آپ کو اپنے کام کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ کیونکہ اسی کی بدولت آپ کو اندازہ ہوگا کہ کون سا کام کس طرح اور کتنے وقت میں مکمل ہو رہا ہے اور اسے کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ آپ اس طرح اپنی ترجیحات بھی طے کر سکتے ہیں کہ کون سا کام زیادہ اہم ہے، اسے زیادہ وقت ملنا چاہیے اور کون سا نسبتاً کم اہم کام اپنی اہمیت کے لحاظ سے وقت پائے۔
لکھت پڑھت نہ کرنا

ناکام لوگوں کی دوسری سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے کام کو بس زبانی کلامی چلاتے ہیں۔ چاہے آپ کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں، لیکن انسان بہرحال انسان ہے، کسی وقت بہت سے اہم پہلو اس سے اوجھل ہو سکتے ہیں۔
اس لیے آپ جو بھی کام کریں، اس کو لکھت پڑھت میں ضرور لائیں۔ کام سے پہلے کہ اسے کس طرح کرنا چاہیے، کام کے دوران بھی کہ اب کون سے مراحل گزر چکے ہیں اور کون سے باقی ہیں جن پر کس طرح عمل کرنا ہے اور آخر میں بھی کہ یہ کام جس طرح تکمیل تک پہنچا ہے، اس میں کن مراحل کی اہمیت بہت زیادہ تھی، کون سے غیر ضروری تھے اور کون سے اقدامات اٹھا کر اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آپ کوئی ذاتی ڈائری بنا سکتے ہیں بلکہ آجکل تو اسمارٹ فون کی صورت میں بہترین نوٹ بک آپ کے پاس ہی موجود ہے، اسے استعمال کریں۔
لا اُبالی پن

ناکام لوگ لا اُبالی ہوتے ہیں، ان کے لیے کسی بھی کام پر توجہ مرکوز رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ان کی ایک جھلک آپ کو تب دیکھنے کو ملتی ہے جب یہ کام کرتے ہوئے ہر پانچ منٹ بعد اپنا موبائل اس طرح اٹھا کر دیکھتے ہیں جیسے ان کے بینک اکاؤنٹ سے میسج آیا ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں ایک کروڑ روپے کی رقم منتقل ہو گئی ہے۔ یا پھر اچھا بھلا کام کرتے کرتے انہیں یوٹیوب پر "صرف نظر ڈالنے” کا شوق ہو جاتا ہے اور پھر کئی گھنٹے وہاں غیر ضروری اور غیر متعلقہ وڈیوز دیکھنے پر ضائع کر دیتے ہیں۔
آپ نے ان تمام چیزوں سے بچنا ہے، اپنی تمام تر توجہ مکمل طور پر کام پر مرکوز رکھنی ہے۔ ابتدا میں مشکل ضرور محسوس ہوگا، لیکن ایک بار آپ کا دماغ اس کا عادی ہو جائے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ آپ اپنے کام کو کتنا بہتر بنا سکتے ہیں۔
کل کر لوں گا!

اردو میں تو اسے لیت و لعل کہتے ہیں، لیکن عام زبان میں آپ ٹال مٹول سمجھ لیں۔ کوئی کام بھی سر پر آ جائے تو ناکام لوگ اس کے لیے اگلے دن کا ہی انتخاب کرتے ہیں یعنی یہ کام کل کر لوں گا! یہ آپ کی پروفیشنل لائف کے لیے کسی زہر سے کم نہیں۔
یاد رکھیں یہ کام بالآخر آپ نے کرنا ہی ہے۔ ہو سکتا ہے آج آپ ذہنی طور پر زیادہ پُر سکون ہوں اور اس کام کے لیے زیادہ اچھی طرح تیار ہوں اور کل کوئی مسئلہ آپ کو پریشان کرے اور آپ کا دل اس کام میں نہ لگے۔ اس لیے خود کو کام پر آمادہ رکھیں اور وقت کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اس کے لیے آگے بڑھیں۔
کام، کام اور صرف کام

کسی کے ناکام ہونے کا محض یہ مطلب نہیں کہ وہ نکمّا، نکھٹو یا کاہل ہے، بلکہ کئی لوگ انتہائی محنتی ہونے کے باوجود ناکام شمار ہوتے ہیں، کیونکہ وقت کو منظم کیے بغیر کام، کام اور صرف کام ہی کرتے رہتے ہیں۔ ایک ساتھ بہت زیادہ کام کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد ان کا تمام تر ایندھن ختم ہو جاتا ہے۔ اسے انگریزی میں burnout کہتے ہیں ، جس کے بعد بڑے عرصے تک ان کے اندر کام کی کوئی تحریک پیدا نہیں ہوتی اور یہ بھی ڈنگ ٹپاؤ ہی بن جاتے ہیں۔
اس لیے آپ نے اپنے اوقات کو منظم کرتے ہوئے نہ صرف کام کے لیے بلکہ تفریح طبع کے لیے بھی وقت مقرر کرنا ہے۔ اس سے آپ اپنے اندر ایک نئی زندگی پائیں گے اور خود کو با آسانی کام پر آمادہ کر سکیں گے۔
منزل طے نہ کرنا

آپ آج اپنے دفتر پہنچے ہیں اور آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کا آج کا ہدف کیا ہے؟ یا پھر اس مہینے یا اس سال آپ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر خود کو ناکام افراد کی فہرست میں شامل کر لیں۔ کامیاب لوگ چاہے اپنے تمام اہداف حاصل نہ کر پائیں لیکن وہ اپنا راستہ متعین رکھتے ہیں اور مقررہ وقت میں اس کی سمت میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔
ترجیحات کا عدم تعین

اہداف کی طرح ترجیحات کا تعین کرنا بھی بہت اہم ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ میں ہر صبح اٹھنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر خود سے ایک سوال کرتا ہوں کہ اگر یہ آج تمہاری زندگی کا آخری دن ہو تو کون سا کام کرنا چاہو گے؟
ناکام لوگ خود سے یہ سوال نہیں کرتے، یہ صرف کامیاب لوگوں کا خاصا ہے کہ جو اسی لحاظ سے اپنی ترجیحات طے کرتے ہیں۔ صرف پیشہ ورانہ زندگی میں ہی نہیں، اپنی ذاتی اور مالی زندگی میں بھی۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ کہیں آپ کی محنت غلط سمت میں اور غیر ضروری کاموں میں نہ صرف ہو جائے۔ ترجیحات کے تعین سے آپ کو پتہ چلتا ہے کہ کس کام کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور کس کو دوسرے درجے پر رکھنا ہے۔
ناں نہ کہنا سیکھیں

ناکام لوگوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ کسی کو ناں نہیں کہہ سکتے، انہیں ایک کام کا اندازہ ہی نہیں اور اس حوالے سے لمبے چوڑے وعدے کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب اس کام کا اصل دباؤ ان پر پڑتا ہے تو حقیقی کام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اچانک ہی کوئی پروگرام بنا لینا، یہ سوچ کر کہ کام بعد میں کر لیں گے، یہ آپ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایک ترتیبِ کار بنائیں، اس پر پوری طرح عمل پیرا رہیں۔
کاہلی و سستی

انگریزی میں ایک اچھا لفظ ہے couch potato، ایسے لوگ جن کا کام یا تو ہاتھ میں ریموٹ لے کر ٹی وی کے چینل بدلتے رہنا ہے یا پھر آجکل دیکھیں تو ہاتھ میں موبائل تھامے ہر وقت اسی پر نظر جمائے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ اسکرین ٹائم آپ کا "بھیجا فرائی” کر سکتا ہے اور اس کا بہت زیادہ استعمال آپ کے لیے بڑے ذہنی و نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ناکام لوگوں کی اس بڑی نشانی سے بچیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو اسے سوشل میڈیا پر ضائع مت کریں بلکہ اپنے پسندیدہ موضوع پر کئی اچھی سے کتاب پڑھ لیں جیسا کہ نپولین ہل کی مشہور کتاب Think and Grow Rich ہے، جس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔


