میں

تیسری عالمی جنگ ہوئی تو کون سے مقامات محفوظ ترین ہوں گے؟

زمین پر بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے۔ دسمبر جیسے سرد مہینے میں برطانیہ کے مختلف علاقوں میں اور جنوبی امریکا میں سیلاب آئے ہیں، امریکا میں ‘بن بلائے طوفانوں نے تباہی مچا رکھی ہے اور ساتھ ہی امریکا اور یورپ میں سخت سردی اور سخت گرمی کی لہریں بھی آتی رہتی ہیں۔ انسانوں نے اپنی مصیبت کو خود دعوت دی ہے اور اب جب موسمیاتی تبدیلی تیزی سے رونما ہورہی ہے تو مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بہتری کی کوششیں نہ کی گئیں تو زمین کے اوسط درجہ حرارت میں ایک درجہ سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوجائے گا، جس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

موسمی لحاظ سے جو کسر رہ گئی ہے اس کی کمی سیاسی و مالیاتی بحرانوں اور وباؤں نے پوری کردی ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر مستقل قریب میں کوئی اجتماعی زوال آنے والا ہے، اس کا نقطہ آغاز ہو چکا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورت حال، امریکا اور چین کشیدگی اور یورپ اور روس کے مابین تناؤ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ لگتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو پریشان حال لوگ کس طرف جائیں؟ کہاں کا رخ کریں؟ ہم نے کچھ ایسے مقامات کا انتخاب کیا ہے جو بدترین حالات میں بھی مستحکم، محفوظ اور بہتر رہیں گے:

آئس لینڈ

دنیا کے دُور دراز ترین ممالک میں سے ایک، جو قریبی ترین زمینی علاقے سے بھی سینکڑوں میل دور ہے اور ہر طرح کے ہنگاموں اور تنازعات سے دور ہے۔ یہاں زندگی گزارنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔ ملک اپنی تقریباً تمام بجلی جیوتھرمل ذرائع سے حاصل کرتا ہے۔ اس کے ساحلوں پر سمندری خوراک بہت وافر مقدار میں موجود ہے۔


ٹرسٹان ڈا کونا

جزیروں کا یہ سلسلہ جنوبی بحر اوقیانوس میں واقع ہے اور دنیا کے دور دراز ترین جزائر میں شامل ہے۔ قریبی ترین زمین براعظمی علاقہ بھی 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔ اس کی آبادی صرف 300 ہے، یعنی کہ نئے لوگوں کا استقبال کرنے میں یہاں کے لوگ پیش پیش ہوں گے۔ یہاں ماہی گیری کے بہترین مواقع موجود ہیں جو حالات خراب ہونے کی صورت میں بہترین پیشہ ہے۔


گوام

اگر امریکا کے لوگ کہیں اپنے ملک سے دور کہیں بھاگنا چاہیں گے تو بحر الکاہل میں واقع یہ جزیرہ ان کی بہترین جائے پناہ ہوسکتا ہے۔ اس جزیرے پر امریکا کا بہت بڑا فوجی اڈہ واقع ہے۔ ویسے معاشی طور پر یہ علاقہ اتنا مضبوط نہیں ہے جو پیسہ بھی یہاں ہے وہ یا تو سیاحوں سے آتا ہے یا پھر امریکا سے۔


چیانگ مائی، تھائی لینڈ

شمالی تھائی لینڈ میں یہ دلکش شہر سوئس سرمایہ کار مارک فیبر نے اپنے گھر کی حیثیت سے بسایا ہے۔ فیبر بہت قنوطی شخصیت ہیں اور دنیا سے خاصے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ وہ بارہا لوگوں کو مشورہ دے چکے ہیں کہ جنگ کی صورت میں آپ کہاں بھاگیں اور ساتھ ہی یہ کہ ڈالر کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، ان کے بقول اس کی حیثیت ٹشو پیپر جتنی بھی نہیں رہے گی۔ گو کہ جنوب مشرقی ایشیا کا یہ علاقہ دہائیوں سے جنگوں، منشیات، قتل عام اور سیاسی بحرانوں کا شکار رہا ہے لیکن چیانگ مائی بدستور امن و استحکام کا مسکن ہے۔ اگر تاریخ نے کوئی کروٹ لی تو یہ ایک محفوظ مقام ہو سکتا ہے۔


ڈینوَر، امریکا

ڈینوَر تیل کے ذحائر کے قریب واقع ہے جس کا مطلب ہے کہ ایندھن کافی مقدار میں دستیاب ہوگا اور جنگ کی صورت میں امریکا میں جس شہر کا دفاع کرنا سب سے آسان ہوگا، وہ یہی ہے۔ یہ سطح سمندر سے بہت بلند اور پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ اتنی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ عالمی حدت کے اثرات سے بچنے کے لیے بھی بہترین مقام ہوگا۔ بلکہ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ اس کے اردگرد موجود زمینوں کو زرعی لحاظ سے مزید کارآمد بنا دے گا۔


انٹارکٹیکا

انٹارکٹیکا دنیا کا سب سے بے آسائش علاقہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تباہی کی صورت میں چھپنے کے لیے بہترین جگہ ہوگا۔ اگر کوئی عالمی جنگ ہوئی اور آپ کے پاس موسم سرما میں زندہ رہنے کے لیے کافی خوراک موجود ہے تو آپ انٹارکٹیکا میں مہم جوؤں اور محققین کے لیے بنائے گئے مقامات میں اس وقت تک رہ سکتے ہیں جب تک کہ حالات بہتر ہو جائیں۔


پُنکَک جایا، انڈونیشیا

انڈونیشیا کا یہ پہاڑی علاقہ رہنے کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں دنیا کی بڑی سونے کی کانوں میں سے چند واقع ہیں جس کا مطلب ہے کام بھی بہت ہے اور تجارت بھی خوب۔ یہاں پر دنیا کی تیسری سب سے بڑی تانبے کی کانیں بھی موجود ہیں۔


کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ

شاندار مناظر، ساحلوں اور بندرگاہوں کا یہ شہر جنوبی افریقہ میں واقع ہے اور ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ افریقہ کا سب سے دُور دراز علاقہ ہے اور اس کے انتہائی جنوبی کونے پر واقع ہے۔ اس لیے کسی بھی عالمی جنگ کی صورت میں کافی عرصے تک محفوظ رہ سکتا ہے۔


برن، سوئٹزرلینڈ

یورپ کا ماضی خونریزی سے عبارت ہے لیکن سوئٹزرلینڈ اس خونیں تاریخ میں بھی خود کو ایک پرامن اور غیر جانبدار علاقہ ثابت کرچکا ہے۔ اس کا دارالحکومت برن کوہ ایلپس کے قدرتی حصار کے اندر واقع ہے اور شہر کے سفارتی حالات بھی ایسے ہیں کہ یورپ بھر میں صورت حال خراب ہو جانے کے بعد چھپنے کے لیے یہ بہترین جگہ ہوگا۔ سوئٹزرلینڈ دونوں عالمی جنگوں میں غیر جانبدار رہا ہے اور یہی تاریخ تیسری جنگ عظیم میں برن کے کام آئے گی۔ یہاں کی زرعی اراضیاں زرخیز ترین زمینوں میں شمار ہوتی ہیں۔


جزیرہ نیکر

یہ جزیرہ ورجن کمپنی کے مالک رچرڈ برینسن کی ملکیت ہے۔ اگر آپ ان سے رابطہ کریں تو ہمیں یقین ہے کہ سب کچھ تباہ ہونے کے بعد وہ آپ کو ضرور یہاں رہنے دیں گے۔ کیونکہ وہ بہت بڑے اور اچھے آدمی ہیں۔


ٹیرا ڈیل فوگو، ارجنٹائن

ایٹمی دھماکے کی صورت میں فضا میں اٹھنے اور پھیلنے والے غبار کا سب سے کم نقصان جنوبی امریکا کے اس انتہائی جنوبی علاقے میں ہوگا، کیونکہ یہاں ہواؤں کی سمت ہی کچھ ایسی ہے۔ موسم سخت اور حالات کٹھن ضرور ہیں لیکن یہ اتنی بھی بُری جگہ نہیں ہے۔


یوکون، کینیڈا

یہ کینیڈا کا انتہائی مغربی علاقہ ہے جہاں آبادی بہت کم ہے اور آجکل اس کا زیادہ تر انحصار حکومت اور سیاحت پر ہے۔ لیکن اگر حالات سنگین ہو جائیں تو یہ علاقہ کسی مختصر لیکن پنپتی ہوئی آبادی کو سنبھال سکتا ہے۔ یہاں شکار کے لیے کافی جنگلی حیات موجود ہے، یعنی عالمی جنگ کے بعد جب ابتدائی دنوں میں زراعت ایک مشکل کام ہوگا تو یہ کافی کام آ سکتی ہے۔ پھر یہاں قیمتی دھاتوں کی کانیں بھی ہیں اور دریا بھی بہت ہیں یعنی آمدورفت کے مسائل بھی کم ہیں، موسم البتہ سخت ہے خاص طور پر سردیوں میں۔


کینسس سٹی، امریکا

چاہے امریکا کو کچھ بھی ہو جائے، امید یہی ہے کہ کینسس سٹی کو کچھ نہیں ہوگا۔ یہ امریکا کے دونوں ساحلوں سے دُور ہے، اس لیے حفاظت، بیرونی حملے یا سطح سمندر میں اضافے کا کوئی خوف نہیں۔ اس کے گرد بہت بڑی زرعی اراضیاں موجود ہیں جو اناج اور مویشیوں کے لیے کافی ہیں اور یہ ریلوے لائنوں کے ذریعے بھی ارد گرد کے علاقوں سے ملا ہوا ہے یعنی نقل و حمل کا بھی مسئلہ نہیں۔ اس لیے بدترین حالات میں بھی یہ شہر سرگرمیوں کا مرکز بن کر ابھرے گا۔


آئل آف لوئس

شمالی بحر اوقیانوس کا یہ جزیرہ اسکاٹ لینڈ سے کم از کم تین گھنٹے کے بحری سفر پر واقع ہے۔ یہ کسی بھی جنگ سے محفوظ ایک بہترین مقام ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گزشتہ تقریباً ایک ہزار سال سے کوئی بھی برطانیہ کو فتح نہیں کر سکا۔ اس جزیرے پر قدرتی وسائل وافر ہیں، کھانے اور ”پینے“ کے لیے بہترین چیزیں بھی موجود ہیں جو اسے دنیا سے بچنے کے لیے موزوں مقام بناتی ہیں۔


گلگت بلتستان

پاکستان کا انتہائی شمالی علاقہ جو دنیا کے عظیم ترین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ انہی کے درمیان دنیا کے بڑے دریاؤں میں سے ایک دریائے سندھ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں داخل ہونے کے راستے چند ہی ہیں، اسی لیے اس کا دفاع کرنا نسبتاً آسان ہے۔ زراعت کے لیے زمین بہت زیادہ تو نہیں لیکن یہاں کی آبادی کو سنبھالنے کے لیے کافی ہوگی۔ موسم خاص طور پر سردیوں میں ناقابلِ برداشت حد تک چلا جاتا ہے لیکن چین، بھارت اور پاکستان جیسی ایٹمی طاقتوں کے ہوتے ہوئے کسی بھی جنگ کی صورت میں جان بچانے کے لیے اس سے بہتر جگہ کوئی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ 20 مقامات دیکھ لیں، اس سے پہلے کہ یہ ختم ہو جائیں

الوداع پروفیسر! محمد حفیظ کی پانچ یادگار اننگز