آپ کو یاد ہی ہوگا 27 فروری 2019ء کو پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اس کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ پاک فضائیہ کی بھرپور کار روائی کے نتیجے میں بھارت نہ صرف اپنے دو لڑاکا طیاروں سے محروم ہوا بلکہ پاکستان نے اس پر ثابت بھی کر دیا کہ اس کی ایسی کسی بھی حرکت پر وہ خاموش نہیں رہے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان نے بھارت کے مسافر طیاروں کے لیے بھی اپنی فضائی حدود کو بند کر دیا تاکہ اسے اس حرکت کا معاشی نقصان بھی پہنچے۔
پاکستان کے تو بہت کم ہی مسافر طیارے مشرق کی جانب جاتے ہیں، مثلاً چین، جاپان، ملائیشیا، تھائی لینڈ وغیرہ لیکن بھارت کے لیے تو پوری دنیا ہی مغرب کی طرف ہے۔ سب سے زیادہ تارکینِ وطن جہاں بستے ہیں وہ سب ممالک مغرب کی طرف یعنی مشرق وسطیٰ کے ممالک، پورا یورپ اور شمالی امریکا اور یہاں جانے کے لیے بھارت کے زیادہ تر جہازوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنا پڑتا ہے۔
پاکستان کے اس قدم سے بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری کو سخت نقصان پہنچا۔ چند مہینوں میں ہی اس کی بہت بڑی پرائیوٹ ایئر لائن جیٹ ایئر ویز بند ہو گئی جبکہ سرکاری ایئر لائن ایئر انڈیا دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی، یہاں تک کہ اسے پرائیوٹائز کر دیا گیا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قریب واقع ممالک کا ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ روس اور یوکرین کے مابین کشیدگی بڑھتے ہی فضائی حدود بند کرنے کا والا کارڈ کھیلا گیا ہے۔ ایک، ایک کر کے یورپ کے مختلف ملکوں نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی۔ بالآخر روس نے بھی جواب میں یہی قدم اٹھایا اور اس وقت یورپی یونین اور امریکا
روس اور یوکرین کے مابین تنازع میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔ ایک، ایک کر کے یورپ کے مختلف ممالک اور امریکا و کینیڈا نے روس کے لیے اپنی فضائی حدود بند کیں اور بالآخر روس نے بھی ان کی پروازوں کے اپنے ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہاں صورت حال تقریباً ویسی ہی ہو گئی ہے جیسی پاک-بھارت کشیدگی کے دوران تھی۔ روس رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور یورپ، خاص طور پر برطانیہ، ناروے، سوئیڈن، فن لینڈ اور مشرقی یورپ کے کئی ممالک کی پروازیں ایشیا اور مشرق وسطیٰ آنے کے لیے روس کی فضائی حدود کا بہت زیادہ استعمال کرتی تھیں۔
اب عالم یہ ہے کہ برٹش ایئر ویز کی لندن سے دلّی جانے والی پرواز ہو یا ٹوکیو جانے والی، دونوں کو بہت ہی لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ عام طور پر لندن-دلّی پرواز کا فاصلہ 10,853 کلومیٹرز ہوتا ہے یعنی جب یہ روس کی فضائی حدود سے گزرتی ہے۔ عموماً 9 گھنٹے 17 منٹ میں برٹش ایئر ویز کی پرواز لندن سے دلّی پہنچ جاتی ہے۔ لیکن اب برطانوی جہازوں کو روس، بلکہ یوکرین اور بیلاروس سے بھی بچتے ہوئے رومانیہ اور بحیرۂ اسود کے اوپر سے ہوتے ہوئے جانا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پرواز 12,295 کلومیٹرز کی ہو گئی ہے بلکہ اس میں وقت بھی زیادہ لگ رہا ہے، تقریباً 10 گھنٹے 6 منٹ۔

اگر لندن-ٹوکیو پروازوں کو دیکھیں تو ان کی حالت تو بہت ہی خراب ہے۔ روس کی پابندی سے پہلے لندن سے ٹوکیو جانے والی پرواز عام طور پر اپنا تین چوتھائی سفر روس کے اوپر کرتی تھی۔ 9،612 کلومیٹرز کا فاصلہ 11 گھنٹے 10 منٹ میں طے ہوتا تھا لیکن اب یہ پرواز نان-اسٹاپ نہیں جا سکتی۔ برطانوی طیارے پہلے اُلٹا راستہ لیتے ہوئے امریکی ریاست الاسکا جا رہے ہیں اور وہاں وقفہ لے کر ٹوکیو کا رخ کر رہے ہیں۔ صرف لندن سے الاسکا کے شہر اینکریج کا فاصلہ ہی 7,224 کلومیٹرز ہے، جسے عبور کرنے میں 9 گھنٹے 28 منٹ لگتے ہیں۔ پھر اینکریج سے ٹوکیو کا مزید 5,576 کلومیٹرز یا 7 گھنٹے 26 منٹ کا فاصلہ الگ ہے۔ یعنی اب لندن-ٹوکیو پرواز 17 گھنٹے میں منزل تک پہنچ رہی ہے۔
برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کا بھی حال بُرا ہے۔ روس کے پڑوسی فن لینڈ کو ہی لے لیں اس کی ایئر لائن فن ایئر کی بنکاک جانے والی پرواز ساڑھے 10 گھنٹے کے بجائے 13 گھنٹے 44 منٹ میں منزل تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔ جرمنی کی لفتھانسا ایئر لائن کی فرینکفرٹ-بیجنگ پرواز بھی 8 گھنٹے 43 منٹ کے بجائے 10 گھنٹے 26 منٹ میں چینی دارالحکومت پہنچ رہی ہے۔ جبکہ امریکا کی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی نیو یارک-دلّی پرواز 14 گھنٹے 20 منٹ کے بجائے 15 گھنٹے 50 منٹ لے رہی ہے۔

اور یہ معاملہ مکمل طور پر یکطرفہ ہے کیونکہ یورپی اور امریکی جہازوں پر پابندی لگائی گئی ہے، ایشیائی ممالک پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورین ایئر کی سیول سے پیرس جانے والی پرواز تو 12 گھنٹے 14 منٹ میں منزل پر پہنچ رہی ہے لیکن اسی رُوٹ پر چلنے والی ایئر فرانس کی پرواز کو 13 گھنٹے 23 منٹ لگ رہے ہیں۔
پھر فرینکفرٹ-بیجنگ روٹ پر ایئر چائنا کی پرواز 8 گھنٹے 35 منٹ میں منزل پر پہنچ رہی ہے جبکہ اسی روٹ پر لفتھانسا کی پرواز کو کہیں زیادہ وقت 10 گھنٹے 13 منٹ لگا رہی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ روس کے لیے صورت حال بہت اچھی ہے۔ اسے پورے یورپ اور امریکا کے لیے پروازیں بند کرنا پڑ گئی ہیں۔
پھر ایک عجیب صورت حال روس کے اُس علاقے میں پیدا ہو گئی جو پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے درمیان واقع ہے۔ اس حصے کو کالینن گراڈ کہتے ہیں جو چاروں طرف سے ان ممالک میں گھرا ہوا ہے جنہوں نے روس کی پروازوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔ اب ماسکو اور سینٹ پیٹرز برگ سے کالینن گراڈ جانے والے جہاز فن لینڈ اور اسٹونیا کے درمیان اس چھوٹی سی فضائی پٹی کا استعمال کر رہے ہیں، جو کسی ملک کی سرحدی حدود میں نہیں آتی۔ عالمی قوانین کے مطابق کوئی ملک اپنی فضائی حدود کو ساحل سے 12 بحری میل سے زیادہ نہیں بڑھا سکتا۔

یہ کشیدگی کتنے دن چلے گی؟ معاملات کب تک ٹھیک ہوں گے؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ایوی ایشن انڈسٹری دو سال تک کرونا وائرس کی وجہ سے مشکلات سے دوچار رہی اور اب اس تنازع نے اس کے لیے نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صنعت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے اور یورپین ایوی ایشن انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔


