اگر آپ نے اردو کے محاورے "آسمان سے گرا، کجھور میں اٹکا” کی عملی مثال دیکھنی ہے تو ان دو بہنوں فضیلہ اور شگفتہ حیدری کو دیکھ لیں۔ ان کا تعلق افغانستان کے علاقے بامیان سے ہے، وہ اگست 2021ء میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک سے فرار ہوئیں اور قسمت انہیں ایسے ملک میں لے آئی، جو اب خود جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے، یعنی یوکرین میں!
فضیلہ اور شگفتہ کبھی ایئر ہوسٹس تھیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے دنیا گھومتی تھیں، لیکن اب وہ یوکرینی دارالحکومت کیف کے نواح میں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں اور خود کو ایک نئی جنگ کے سامنے پاتی ہیں۔ کہتی ہیں ہم تو درمیان میں پھنس گئے ہیں، ایک مصیبت سے جان چھڑا کر یہاں آئے تو ایک اور جنگ سامنے کھڑی ہے۔ اپنے ماضی، عزیز رشتہ داروں، دوستوں کو چھوڑنے کے بعد بھی وہ ایک انتہائی غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہیں۔
فضیلہ کی عمر 26 سال اور شگفتہ کی 24 سال ہے، اور وہ ایک بڑے گھرانے کی سب سے چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی بہنیں روزمرہ زندگی میں درپیش تمام تر مسائل کے باوجود افغانستان میں گزارے گئے دنوں کو سنہری ایّام کہتی ہیں۔ گزشتہ سال موسمِ گرما میں انہوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا اور ایئر ہوسٹس کی ملازمت نے انہیں سفر کے بڑے مواقع بھی دیے۔ وہ ہوائی سفر کے دوران کئی لوگوں سے بھی ملتیں، جن میں بڑے سیاست دانوں سے لے کر شوبز کی معروف شخصیات تک شامل تھیں۔

سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں دونوں کہتی ہیں کہ "جب 15 اگست 2021ء کو طالبان نے کابل پر اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا تو ہمارے پاس ملک چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ہمیں ایک پرواز کے ذریعے ملک سے بھاگنا پڑا۔ کوئی دوسرا راستہ ہوتا تو ہم ضرور اختیار کرتے۔ اب یہاں ایک مہاجر کی زندگی گزار رہے ہیں۔”
ویسے دونوں بہنیں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد آنے کے لیے کابل ایئرپورٹ آئی تھیں، لیکن انہیں وہاں پہنچنے میں تھوڑی سی دیر ہو گئی۔ ایئرپورٹ پر سخت افراتفری کا عالم تھا۔ ہزاروں لوگ ملک سے باہر جانے کے لیے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ شگفتہ بتاتی ہیں کہ وہ بہت بھیانک وقت تھا۔ لوگوں کا بہت بڑا ہجوم وہاں موجود تھے۔ ہم بہت ڈرے ہوئے تھے، کچھ پتہ نہیں تھا کہ اب کیا کرنا ہے بلکہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اب ہم جا کہاں رہے ہیں؟
بہرحال، حیدری سسٹرز اپنی چند دوستوں کے ساتھ ایک جہاز تک پہنچیں اور اس میں سوار ہو گئیں۔ یہ تو ٹیک آف کرنے سے چند منٹ پہلے پتہ چلا کہ یہ جہاں دراصل یوکرین جا رہا ہے۔ پہلے تو انہوں نے سکون کا سانس لیا کہ کم از کم افغانستان سے تو باہر نکل رہے ہیں لیکن جلد ہی ایک مہاجر کی زندگی کی حقیقت ان کے سامنے کھل گئی کہ کسی انجان ملک میں سیاسی پناہ کے خواہشمندوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اب فضیلہ اور شگفتہ اُن 370 افغان باشندوں میں شامل ہیں کہ جو اگست میں ایسی ہی چند پروازوں کے ذریعے یوکرین پہنچے تھے۔ ویسے ملک میں موجود افغانوں کی تعداد کا درست علم تو کسی کو نہیں لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اِس وقت تقریباً 5 ہزار افغان یوکرین میں مقیم ہیں۔
جب دونوں بہنیں یوکرین پہنچیں تو پہلے انہیں دارالحکومت کیف سے دو گھنٹے کے فاصلے پر بیلاروس کی سرحد کے قریب ایک مہاجر کیمپ لے جایا گیا۔ دو ہفتے بعد وہ یوکرین ایئرلائن میں کام کرنے والے ایک دوست کی مدد سے شہر کے نواح میں منتقل ہوئیں۔ لیکن اب کہتی ہیں کہ وہ پریشان ہیں کیونکہ ان کا افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ غلط تھا۔

شگفتہ کا کہنا ہے کہ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ زندگی یہاں گزارنا پڑے گی، اتنی مشکلات ہوں گی تو میں کبھی مہاجر بننے پر راضی نہ ہوتی۔
دونوں بہنوں نے یوکرین میں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر رکھی ہے اور اس کا فیصلہ ہونے میں ابھی کئی ہفتے باقی ہیں۔ اس دوران انہیں ملازمت ڈھونڈنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے حالانکہ ان کے پاس تمام کاغذات ہیں۔ اس وقت تو ان کے گھر کا کرایہ بھی جرمنی میں مقیم ایک رشتہ دار دے رہے ہیں۔
وہ جس صورت حال سے گھبرا کر افغانستان سے نکلی تھیں، اب انہیں یوکرین میں بھی ویسے ہی حالات کا سامنا ہے کیونکہ ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کی لاکھوں کی تعداد میں افواج یوکرین کی سرحدوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں اور کسی بھی وقت ملک پر حملہ ہو سکتا ہے۔ دارالحکومت میں بظاہر تو حالات پُر سکون نظر آتے ہیں لیکن ایک انجانا خوف ہے جس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
فضیلہ کہتی ہیں کہ ان حالات میں سب سے مشکل کام ہے کابل میں موجود گھر والوں سے بات کرنا۔ ان کے اپنے بڑے مسائل ہیں اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم یہاں محفوظ بیٹھے ہیں۔ صرف ہمارے بھائیوں کو پتہ ہے کہ یہاں صورت حال کیا ہے۔ وہ والدہ کو پریشانی سے بچانے کے لیے ٹیلی وژن پر خبروں کے چینلز ہی نہیں چلا رہے اور ان پر یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔
بہنوں کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین پر حملہ ہو جاتا ہے تو انہیں نہیں معلوم کہ کیا ہوگا۔ کم از کم وہ پولینڈ یا کسی بھی دوسرے قریبی ملک کی سرحد پار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ "ہم اتنے بہادر نہیں کہ کوئی سرحد پار کریں، اگر ہوتے تو ضرور جاتے۔”


