میں

آمروں کے من پسند کھانے

آمروں کی بھی اپنی ہی دنیا ہوتی ہے۔ خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے، کسی کو خاطر میں نہ لانے والے، منہ سے جو نکل جائے، اسے حرفِ آخر سمجھنے والے، بادشاہوں والا رعب و دبدبہ اختیار کرنے والے، ہر اٹھتی انگلی توڑنے والے، ہر کھلنے والی زبان کو بند کرنے والے۔ لیکن ان کی اپنی دنیا میں کیا ہوتا ہے؟ زبان کا ذکر آیا ہے تو ذہن میں آ رہا ہے کہ آمر ملک کے علاوہ اور کیا کچھ کھاتے ہیں؟

ویسے جابر حکمرانوں کے لیے تو کھانا بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتا۔ ایک طرف سب کچھ کھا جانے کا شوق تو دوسری جانب یہ ڈر بھی کہ کہیں کوئی ان کے کھانے میں زہر نہ ملا دے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے لیے باورچیوں کا انتخاب وزیر چننے جتنا اہم ہوتا ہے یعنی نہ صرف ان میں کھانا پکانے کی صلاحیت ہو بلکہ وہ وفادار بھی ہوں اور قابلِ بھروسا بھی۔

کچھ آمر تو ایسے بھی گزرے ہیں جو سمجھتے تھے کہ کوئی خاص چیز کھانے سے ان کے اقتدار کو طول ملے گا اور فلاں چیز سے دشمن کو نقصان پہنچے گا۔ اشکے وئی اشکے!

ایڈولف ہٹلر

ہٹلر کا تعارف کروانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ گزشتہ 100 سال کے دوران انسانوں پر جو سب سے بڑی تباہی نازل ہوئی، یعنی دوسری جنگِ عظیم، اس کی وجہ یہی آمر تھا۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہٹلر سبزی خور تھا اور گوشت نہیں کھاتا تھا۔ ساری زندگی اس نے صرف آلو اور سبزیوں کا شوربہ ہی کھایا۔ اپنے خلاف سازش کا خطرہ بھی بہت زیادہ تھا اس لیے ہٹلر کی باورچیوں کی ٹیم کے ساتھ 15 افراد ایسے ہوتے تھے جو کھانے میں زہر کا پتہ چلاتے تھے۔ یعنی ہٹلر کے لیے بنایا جانے والا کھانا پہلے یہ 15 لوگ کھاتے تھے اور 45 منٹ تک انتظار کیا جاتا تھا۔ اگر انہیں کچھ نہ ہوتا تو پھر وہ کھانا ہٹلر کو دیا جاتا تھا۔


جوزف اسٹالن

دنیا ہٹلر کو تو بہت یاد کرتی ہے لیکن اس سے بھی بڑا ہٹلر سوویت یونین میں تھا یعنی جوزف اسٹالن۔ اس نے 25 سال روس پر حکمرانی کی اور ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ وہ کھانوں کا بہت شوقین تھا اور اسے روایتی کھانے بہت پسند تھے، اخروٹ، کشمش، انار کے علاوہ وہ شراب کا بھی دلدادہ تھا۔ بادام، اخروٹ اور شہد سے تیار ہونے والی مٹھائی بھی پسند تھی۔ اس کے چٹور پن کا انداز اس بات سے لگائیں کہ صرف رات کا کھانا ہی چھ گھنٹے چلتا۔ ایک سے بڑھ کر ایک مشروبات بھی کھانے کی میز پر لائے جاتے۔


بنیتو مسولینی

اٹلی کا مشہور آمر بینیتو مسولینی تھا جو دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں بھی ملک پر حکمران تھا۔ وہ بھی کھانے پینے کا بڑا شوقین تھا۔ فرانسیسی کھانوں کا دشمن لیکن اطالوی کھانوں کا دلدادہ۔ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔ اس کے گھر پہنچنے سے پہلے تمام گھر والوں کے لیے لازمی تھا کہ وہ میز پر موجودد ہوں اور تمام کھانا تیار ہو کر لگایا جا چکا ہو۔ اسے لہسن، سلاد اور لیموں پانی بہت پسند تھا۔


کم جونگ اِل

شمالی کوریا کا ایک آمر، جسے شارک اور کتے کو گوشت کا سوپ بہت پسند تھا۔ وہ ایک مخصوص فرانسیسی شراب بھی بہت پسند کرتا تھا لیکن وہ سب سے زیادہ شوقین تھا چاولوں کا۔ صرف چاول پکانے کے لیے خواتین کی ایک پوری ٹیم اس کے باورچی خانے میں ہوتی تھی، جن کا کام ہوتا تھا کہ کم جونگ ال کی میز پر جو چاول جائیں، ان کا ہر دانا ایک ہی سائز، ایک ہی رنگ اور ایک ہی شکل کا ہو۔


عیدی امین

یہ افریقہ کے ملک یوگینڈا کا ایک آمر تھا، جس کے آخری ایام جلا وطنی میں سعودی عرب میں گزرے۔ وہ تو کھانوں کا اتنا شوقین تھا کہ فوج کی سالانہ پریڈ میں بھی کھاتا رہتا تھا۔ بھنا ہوا گوشت بکرے کا ہو یا مرغی کا، اسے بہت بھاتا تھا اور ساتھ ہی باجرے کی روٹی بھی پسند تھی۔ نارنگیاں تو اتنی پسند تھیں کہ وہ ایک دن میں تین درجن سے زیادہ نارنگیاں بھی کھا جاتا تھا۔ جلا وطنی کے دنوں میں اسے پیزا اور زنگر کے مزے لگ گئے، خوب منگواتا اور بھرپور انصاف کرتا۔


پول پوٹ

یہ تو وہ آمر تھے جو ہمارے ہاں بھی خاصے مشہور ہیں۔ لیکن ایک نسبتاً کم مشہور لیکن اتنا ہی ظالم آمر کمبوڈیا میں تھا، جس کا نام تھا پول پوٹ۔ وہ کھانے میں گوشت کا بڑا شوقین تھا، خاص طور پر ہرن اور سؤر کے گوشت کا لیکن اسے جو خاص چیز پسند تھی وہ تھا کوبرا سانپ کا سالن۔ اس کے علاوہ پھل بھی خوب کھاتا اور شراب کا بھی شوقین تھا۔ اس نے یہ سب عیاشی اُس دور میں کی جب کمبوڈیا کو عوام کو صرف پانی پینے اور چاولوں کی بھوسی کھانے کی اجازت تھی، بس!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اصلی "منی ہائسٹ”؟ داستان ماسکو گولڈ کی

[وڈیوز] چکر برہموس میزائل کا