ہو سکتا ہے آپ کو چہرے پڑھنے کا فن آتا ہو اور آپ کسی بھی شخص کے چہرے پر لکھی داستان سے اس کی شخصیت بھی اخذ کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ حقیقی زندگی میں کوئی شخص اچھا ہے یا بُرا، ہیرو ہے یا ولن، شکلیں سب کی عام انسانوں جیسی ہی ہوتی ہیں۔
ہاں! فلم نگری میں ہیرو کو خوب بنا سنوار کر اور ولن کو بدصورت دکھایا جاتا ہے۔ The Dark Knight کے ‘جوکر’ کو دیکھ لیں یا پھر ہیری پوٹر کے ‘Lord Voldemort’ کو، عجیب و غریب شکل دیکھ کر ہی آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ ہو نہ ہو، یہی ولن ہے۔ اور ایسا سوچنے والے ہم آپ اکیلے نہیں بلکہ یہ دہائیوں سے ذہنوں میں بٹھائے جانے والے ایک تاثر کا نتیجہ ہے کوئی شخص چاہے کتنا ہی نیک نیت کیوں نہ ہو، اپنی صورت کی وجہ سے ولن سمجھا جاتا ہے۔

المیہ ہے نا؟
خیر، فلموں میں ولن کو بدشکل دکھانے کا سلسلہ ایک صدی سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ پرانے وقتوں میں جب رنگ و آواز کے بغیر سیاہ و سفید فلمیں بنتی تھیں، تب بھی فلموں میں ولن کو ہمیشہ عجیب و غریب صورت کا حامل ہی دکھایا جاتا تھا۔ تقریباً 100 سال پرانی 1921ء کی مشہور فلم "Nosferatu” تک میں آپ اس کے ولن کو پہلی ہی نظر میں پہچان جائیں گے۔ اس مثال سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ولن کو عام لوگوں سے الگ دکھانے کے لیے عجیب و غریب رنگ، غیر معمولی جسامت، آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے اور خوفناک موسیقی کا استعمال کتنا پرانا ہے؟

ویسے کیا کبھی آپ نے محسوس کیا کہ اکثر فلموں کے ولن بہت سی ملتی جلتی خصوصیات کے مالک ہوتے ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ 60 فیصد مشہور زمانہ ولنز کی جلد اور چہرے کے خدوخال ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ ماہرین نے ولن کے تصور اور چہرے پر موجود نشانات کے درمیان ہم آہنگی پر ایک تحقیق پیش کی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس میڈیکل برانچ کی جولیا کرولی اور ان کے ساتھیوں نے اس تحقیق کے لیے امریکن فلم انسٹی ٹیوٹ کے 100 عظیم ہیروز اور ولنز قرار پانے والوں کی فہرست میں سے 10 کا انتخاب کیا۔
اس تحقیق سے پتہ چلا کہ 30 فیصد ولن کی آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے موجود تھے جبکہ اتنے فیصد ہی ولنز کا سر بالوں سے عاری تھا۔ فلموں میں دکھائے جانے والے 20 فیصد ولنز کے چہرے پر جھریاں یا زخموں کے متعدد نشانات تھے۔ اس کے علاوہ 20 فیصد ولنز کے چہروں پر مسّے بنائے گئے جبکہ 10 فیصد کی ناک پکوڑے جیسی تھی۔

سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والے جلدی امراض کے ماہر ویل ریسی کہتے ہیں کہ ولن کو مخصوص چیزوں جیسا کہ سوجی ہوئی آنکھیں، موٹی ناک یا چہرے پر نشان کے ساتھ دکھانے سے عام لوگوں میں یہ تاثر فروغ پاتا ہے کہ ان جیسے چہرے رکھنے والا شخص نہ صرف بد صورت بلکہ بد سیرت بھی ہے۔ اس تصور سے وہ لوگ سب سے زیادہمتاثر ہوتے ہیں کہ جن کے چہرے کے خدوخال عام لوگوں سے منفرد ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کی آنکھیں سیاہ یا بھوری کے بجائے گہرے سرخ یا گلابی رنگ کی ہیں تو ایسی آنکھوں والوں کو خون کا پیاسا سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کا حقیقت سے دُور پرے کا بھی واسطہ نہیں۔
کارنیگی میلن یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر و ماہر نفسیات ڈیوڈ رکسن بھی اس خیال کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں چہرے پر نشانات کو خوف کی علامت دکھایا جانا سراسر غلط ہے۔اس سے لوگوں میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ کسی بھی قسم کے نشانات سے پاک چہرہ ہی خوبصورتی، اور خوب سیرتی، کی علامت ہے جبکہ چہرے پر کسی بھی قسم کا داغ ہونا اس فرد کے بیمار ذہن ہونے کی نشانی ہے۔ دوسری بات یہ کہ چہرے پر کسی چوٹ کا نشان ایک بے رحم فرد سے منسوب کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے یہی اخذ کرتے ہیں کہ جس شخص کے چہرے پر ٹانکوں کا، یا کوئی دوسرا نشان ہوگا، اس کی طبیعت میں شدت پسندی اور کرختگی غالب ہوگی۔ حالانکہ حقیقی زندگی میں دیکھا جائے تو یہ سوچ مکمل طور پر غلط ہے۔

گویا اس تحقیق کے نتائج دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے فلموں کے ذریعے ان چیزوں کا تعلق ‘شیطان’ سے ظاہر کیا جانا در حقیقت ان لوگوں کے لیے بڑا مسئلہ ہے کہ جن کا چہرہ کسی بیماری، حادثے یا کسی دوسری وجہ سے عام افراد سے مختلف ہوتا ہے۔ غرض یہ کہ جس طرح ہر اچھی صورت والا انسان نیک سیرت اور اچھے دل کا مالک نہیں ہوتا اسی طرح مختلف شکل والا شخص بھی بد نیّت اور بے رحم نہیں ہوتا۔


