فلمی دنیا میں سب سے بڑا اعزاز اکیڈمی ایوارڈز کو کہا جاتا ہے، جو عام طور پر آسکرز کے نام سے مشہور ہیں۔ 1929ء سے اکیڈمی ایوارڈز دیے جا رہے ہیں اور ان میں سب سے بڑا اعزاز ہے بہترین فلم کا۔ Gone with the Wind سے لے کر Nomadland تک کئی ایسی فلمیں آئی ہیں جو یہ اعزاز تو جیتی ہی ہیں لیکن ایک شاہکار بھی ہیں۔
ویسے ضروری نہیں کہ بہترین فلم کا آسکر جیتنے والی فلم واقعی بہترین بھی ہو۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب اعزاز انتہائی بھونڈے انداز میں بہترین کے بجائے ایک اوسط درجے کی فلم کو بخشا گیا لیکن یہ ایک الگ بحث ہے۔ آج ہم آپ کو صرف ان فلموں کے بارے میں بتائیں گے جو واقعی اس قابل تھیں کہ انہیں بہترین فلم کا یہ اعزاز دیا جائے۔
Casablanca
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب 1942ء میں Casablanca ریلیز ہوئی تھی تو اس نے کوئی غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔ لیکن فلم بلاشبہ اچھی تھی اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف Casablanca نے بہترین فلم کا اعزاز جیتا، بلکہ مائیکل کورٹز نے بہترین ہدایت کار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ آج اسے تاریخ پر دیرپا اثرات مرتب کرنے والے فلموں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔
The Bridge on the River Kwai
مشہور برطانوی ہدایت کار ڈیوڈ لین کی The Bridge on the River Kwai دوسری جنگِ عظیم میں برما کے محاذ کی ایک کہانی بیان کرتی ہے۔ 1957ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے 30 ویں اکیڈمی ایوارڈ میں بہترین فلم کا اعزاز حاصل کیا۔ اس مووی کو آج تاریخ کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
Lawrence of Arabia
ڈیوڈ لین کی ایک اور شہرۂ آفاق فلم۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ اگر کوئی مجھ سے ایسی فلم بنانے کے لیے پیسہ مانگے کہ جس میں عورت کا کوئی کردار نہ ہو، وہ عرب کے صحراؤں میں بنائی گئی ہو، اور بجٹ بھی بہت زیادہ ہو، تو مجھے اس میں پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نظر نہ آتا۔ لیکن Lawrence of Arabia نے تمام تر خدشات کا خاتمہ کر دیا اور آج بھی دلوں پر راج کرتی ہے۔ 1962ء کی یہ فلم آج بھی دیکھیں تو جدید تقاضے پوری کرتی نظر آتی ہے اور ناظرین پر ویسا ہی اثر ڈالتی ہے جیسا پہلی بار ڈالا ہوگا۔ ویسے اس فلم میں پاکستان کے معروف صداکار ضیا محی الدین نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
The Godfather
جرائم کی دنیا کو کھول کر بیان کرنے والی ایک شاہکار فلم، جس کے تین حصے بنے اور تینوں ہی نے خوب شہرت سمیٹی، لیکن جو عروج 1972ء بننے والی پہلی فلم نے حاصل کیا، وہ شاید ہی کسی دوسری فلم کو ملا ہو۔ یہ ایک اطالوی نژاد امریکی خاندان کے خفیہ و علانیہ جرائم کی داستان بیان کرتی ہے۔ The Godfather نے کئی اداکاروں کو لا فانی حیثیت دی۔
One Flew Over the Cuckoo’s Nest
ایک ایسے عادی مجرم کی داستان جو قید با مشقت کی اذیتوں سے بچنے کے لیے ذہنی مریض بننے کا ڈراما کرتا ہے۔ اس کی اداکاری اتنی عمدہ ہوتی ہے کہ اسے واقعی جیل سے نکال کر پاگل خانے منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں سے کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ پاگل خانے کا واحد شخص جو پاگل نہیں ہے۔ جیک نکلسن نے اپنی زندگی کی بہترین اداکاری اسی فلم میں کی ہوگی۔ 1975ء کی اس فلم نے بہترین فلم کا ہی نہیں بلکہ بہترین اداکار، اداکارہ، ہدایت کار اور کہانی کے آسکر ایوارڈز بھی جیتے۔ یہ اعزاز تاریخ میں محض چند فلموں کو حاصل ہے۔
The Silence of the Lambs
ایسی ہی، یعنی پانچویں ٹاپ آسکر ایوارڈز جیتنے والی، ایک دوسری فلم ہے The Silence of the Lambs۔ جوناتھن ڈیم کی ہدایت میں بنائی گئی یہ فلم دراصل ایک ایف بی آئی کی ایک جونیئر ایجنٹ کی داستان ہے جو ایک عادی قاتل (سیریئل کلر) کی تلاش کے لیے ایک خطرناک ترین قیدی کی مدد لیتی ہے۔ اس قیدی کا کردار اینتھنی ہوپکنز نے ادا کیا ہے۔ یہ تاریخ کی واحد فلم ہے جو ‘ہارر’ کے زمرے میں آنے کے باوجود آسکر ایوارڈ جیت گئی۔
Schindler’s List
اسٹیون سپیلبرگ ہالی ووڈ کے مشہور ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں۔ کیریئر کے آغاز میں انہوں نے Jaws، Raiders of the Lost Ark اور E.T. the Extra-Terrestrial جیسی مشہور فلمیں بنائیں لیکن ان کی جس مووی نے بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ جیتا، وہ Schindler’s List تھی۔ ایک جرمن کاروباری شخصیت آسکر شنڈلر کی داستان، جنہوں نے ہولوکاسٹ کے دوران ان گنت یہودیوں کی جانیں بچائیں۔ یہ فلم 1993ء میں ریلیز ہوئی تھی اور حیران کن طور پر یہ پوری فلم بلیک اینڈ وائٹ تھی، سوائے ایک منظر کے کہ جس میں ایک بھیانک منظر کے دوران ایک چھوٹی سی بچی کا کوٹ لال رنگ میں نظر آتا ہے۔
Gladiator
یہ 2000ء میں ریلیز ہونے والے ڈائریکٹر رڈلی اسکاٹ کی مشہور فلم ہے، جو داستان ایک رومی سپہ سالار میکسیمس میریڈیئس کی۔ اس کا دشمن کوموڈس اپنے باپ کو قتل کر کے تخت پر بیٹھتا ہے اور حالات اسے ایک غلام بنا دیتے ہیں، جو روم کے مشہور اکھاڑے کولوزیئم میں لڑتے ہیں۔ فلم کے ہر ہر پہلو کو ناقدین اور عوام دونوں نے خوب سراہا، اداکاری سے لے کر ہدایت کاری، مناظر سے لے کر کہانی، لڑائی کے مناظر سے لے کر موسیقی تک، سب کو۔
No Country for Old Men
ایک خوفناک قاتل اور اس کے ‘شکار’ کے گرد گھومتی کی داستان بیان کرتی یہ فلم 2007ء میں ریلیز ہوئی۔ جوئیل اور ایتھن کوئین کی اس مووی کو 21 ویں صدی کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے صرف بہترین فلم کا ہی نہیں، بلکہ کوئین برادرز نے بہترین ہدایت کار اور قاتل کا کردار ادا کرنے والے ہاویئر باردیم نے بہترین معاون اداکار کا اکیڈمی ایوارڈ بھی جیتا۔
Green Book
پیٹر فیریلی کی یہ فلم 2018ء میں ریلیز ہوئی اور بلاشبہ مستقبل میں اسے ایک شاہکار مانا جائے گا۔ اس کی کہانی 1962ء کے ایک سیاہ فام پیانو نواز اور اس کے ڈرائیور کے گرد گھومتی ہے۔ یہ دونوں امریکا کے ان علاقوں کے سفر پر نکلتے ہیں جہاں نسل پرستی عروج پر ہوتی ہے۔ ماہرشالا علی کو بھی مرکزی کردار ادا کرنے پر بہت سراہا گیا۔
Parasite
جنوبی کوریا کے ڈائریکٹر بونگ جون ہو کا ایک شاہکار، کہانی ایک ایسے غریب خاندان کے فرد کی جو ایک امیر خاندان کے گھر میں ملازمت اختیار کرتا ہے اور پھر کسی کے علم میں لائے بغیر اپنے ہی گھر کے دیگر افراد کو بھی ان کے گھر میں کام پر رکھوا دیتا ہے۔ کہانی تو اس فلم کی عجیب و غریب ہے ہی، لیکن اس کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ یہ انگریزی سے ہٹ کر کسی دوسری زبان میں ہے لیکن پھر بھی بہترین فلم کا اکیڈمی ایوارڈ جیتا۔ امید ہے کہ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی آخری فلم نہیں ہوگی۔
امید ہے آپ کو یہ فہرست ضرور پسند آئی ہوگی، کیا آپ ہمیں اپنی پسندیدہ کسی فلم کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں؟ تو نیچے تبصرے کی صورت میں اپنی رائے ضرور پیش کیجیے۔













