کیا آپ نے کبھی سوچا کہ امریکا میں کوئی ایسا شہر بھی ہوگا کہ جہاں پانچ وقت اذان کی آواز بلند ہوتی ہے؟ جی ہاں! ایک ایسا شہر ہے جہاں کی درجنوں مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی ہیں۔ یہ ہے ریاست مشیگن کا شہر ہیم ٹریمک (Hamtramck)!
امریکا Land of Opportunities یعنی مواقع کی سرزمین ہے۔ دنیا جہاں کے لوگ بہتر مستقبل کے لیے، امن و سکون کی اور خوش حال زندگی کے لیے امریکا کا رُخ کرتے ہیں۔
ویسے وہ زمانہ بھی تھا کہ امریکا کے لیے ہجرت جبراً ہوتی تھیں۔ افریقہ سے عام لوگوں کو پکڑ دھکڑ کر امریکا لے جایا جاتا تھا اور غلام بنا کر ان سے سخت مشقت لی جاتی تھی۔ امریکا کی مقامی آبادی کا تو بری طرح قتلِ عام کیاگیا اور پھر ان کے قدرتی وسائل لوٹنے کے لیے افرادی قوت افریقہ سے حاصل کی گئی۔

لیکن آج حالات مختلف ہیں۔ غلامی کو ختم ہوئے زمانہ گزر چکا ہے اور امریکا اب ایک سپر پاور ہے، جہاں لوگ اپنی مرضی سے جاتے ہیں۔ امریکا جانے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دنیا بھر میں ترکِ وطن کرنے والا ہر پانچواں شخص امریکا میں رہتا ہے یعنی تقریباً 20 فیصد امیگرینٹس۔
یہی وجہ ہے کہ امریکا کے کچھ علاقے تو ایسے ہیں جہاں ان کی اکثریت ہے، انہی میں سے ایک ہے ہیم ٹریمک۔

2020ء کی مردم شماری کے مطابق اِس شہر کی آبادی 28 ہزار 433 ہے۔ یہ ریاست مشیگن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ کے ساتھ ہی واقع ہے۔
ماضی میں یہ بہت ہی با رونق علاقہ ہوتا تھا۔ جب یہاں گاڑیاں بنانے والے مشہور اداروں ڈوج اور جنرل موٹرز کے پلانٹس ہوتے تھے۔ تب یہاں کی آبادی بھی بہت زیادہ تھی لیکن زیادہ تر پولش یعنی پولینڈ کے باشندے تھے۔ البتہ 21 ویں صدی میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں ہیم ٹریمک کو اپنا گھر بنایا ہے۔

یہاں کی آبادی میں سب سے زیادہ شرح یمن، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والوں کی ہے۔ جن کی وجہ سے یہ 2013ء میں امریکا کا پہلا شہر بنا، جہاں مسلمان اکثریت میں آ گئے۔ یہاں کی سب سے بڑی مسجد معاذ بن جبلؓ ہے، جو 1976ء میں تعمیر کی گئی۔
لیکن حال ہی میں ہیم ٹریمک کو ایک اور اعزاز ملا ہے، یہ پہلا امریکی شہر بنا کہ جس کا نہ صرف میئر بلکہ پوری سٹی کونسل ہی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ امریکا کی پہلی مکمل طور پر مسلم بلدیہ ہے۔
یہی نہیں بلکہ 2004ء میں یہ امریکا کا واحد شہر بنا کہ جہاں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کی اجازت دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمیں ہیم ٹریمک میں ہر نماز کے وقت اذان کی آواز سنائی دیتی ہے، جو ایک روح پرور منظر ہوتا ہے۔

شہر کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ یمن سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ میئر ڈاکٹر عمرو غالب بھی یمن سے ہی ہیں۔
ویسے ہیم ٹریک کو اذان کی اجازت اور پوری سٹی کونسل کے مسلمان ہونے کی وجہ سے امریکا میں امتیازی حیثیت حاصل ہے، لیکن یہ ملک کا واحد شہر نہیں کہ جس کا میئر مسلمان ہے۔ امریکا کے دو مزید شہر ایسے ہیں جہاں کے میئر مسلمان ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں شہر بھی ڈیٹرائٹ کے نواح میں ہی ہیں: ایک ہے ڈیئر بورن اور دوسرا ڈیئر بورن ہائٹس۔
اگر فی کس آبادی کے لحاظ سے دیکھیں تو ڈیئر بورن میں مسلمانوں کی شرح کسی بھی دوسرے امریکی شہر سے زیادہ ہے۔ امریکا کی سب سے بڑی مسجد بھی ڈیئر بورن ہی میں ہے۔

شہر کی آبادی ہیم ٹریمک سے کہیں زیادہ ہے، 2020ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار۔ جس میں سے لگ بھگ ایک تہائی آبادی عربی بولتی ہے۔ ان میں لبنانی سب سے زیادہ ہیں، پھر یمن، عراق، فلسطین اور عراق سے تعلق رکھنے والے بھی۔
یہ وہ شہر ہے جس میں مشہورِ زمانہ کار کمپنی فورڈ کے مالک ہنری فورڈ پیدا ہوئے تھے اور آج بھی فورڈ کا عالمی ہیڈ کوارٹر اسی شہر میں ہے۔ جس کی وجہ سے یہ شہر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس شہر کے میئر اس وقت ایک عبداللہ حمود ہیں، جو 1990ء میں اسی شہر میں پیدا ہوئے لیکن ان کے والدین کا تعلق لبنان سے ہے۔
پھر ایک شہر ڈیئر بورن ہائٹس بھی ہے۔ یہ بھی ڈیٹرائٹ کے قریب ہی واقع ہے۔ یہاں کی آبادی تقریباً 63 ہزار تھی جس میں سے تین چوتھائی عرب ہیں۔ شہر کے میئر بل بازی ہیں، جو دراصل لبنان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی 7 رکنی سٹی کونسل میں سے 3 لبنانی مسلمان ہیں۔



