آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے انڈونیشیا۔ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان انڈونیشیا ہی میں رہتے ہیں۔ یہ بحرِ ہند اور بحر الکاہل کے درمیان 17 ہزار جزیروں پر پھیلا ہوا ملک ہے۔ ملک کا دارالحکومت فی الحال تو جکارتہ ہے لیکن جلد ہی اسے بہت دُور نئی جگہ پر منتقل کر دیا جائے گا۔
ویسے جکارتہ بہت بڑا شہر ہے، صرف مرکزی شہر کی آبادی ہی 1 کروڑ ہے اور اگر نواحی علاقوں کو ملا لیں تو کیپٹل ایریا کی آبادی ساڑھے 3 کروڑ تک جا پہنچتی ہے۔ اتنا بڑا شہر ہونے کی وجہ سے شہروں میں جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، وہ تمام مسئلے جکارتہ میں موجود ہیں بلکہ کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جن کا کوئی حل فی الحال نظر نہیں آتا۔ اس لیے دارالحکومت ہی ختم کرکے ایک نئی جگہ پر بسانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یوں انڈونیشیا اُن ملکوں میں سے ایک بن جائے گا جنہوں نے پچھلے 100 سالوں کے دوران اپنا دارالحکومت تبدیل کیا ہے۔ ملک کا نئے دارالحکومت کا نام نُسانترا ہوگا، جو جکارتہ سے تقریباً 2 ہزار کلومیٹرز دُور تعمیر کیا جائے گا۔ جکارتہ 1949ء میں آزادی کے بعد سے انڈونیشیا کا دارالحکومت تھا، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر 73 سال بعد دارالحکومت تبدیل کرنے کی کیا پڑی تھی؟
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جکارتہ دھنس رہا ہے، سطحِ سمندر میں اضافے کی وجہ سے شہر کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ شہر کا شمالی حصہ تو ہر سال 25 سینٹی میٹرز کی شرح سے نیچے جا رہا ہے اور خطرہ ہے کہ 2050ء تک ایک تہائی جکارتہ زیرِ آب آ جائے گا۔

شہر کا دوسرا اور بہت ہی بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ جکارتہ کے قریب سے پانی کا کوئی اتنا بڑا ذخیرہ نہیں گزرتا جس سے کروڑوں کی آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ یوں پورے شہر کا انحصار صرف بورنگ یعنی کنوؤں پر ہے۔ جہاں شہر کے مرکزی علاقے میں ہی ایک کروڑ لوگ رہتے ہوں، وہاں آخر زمین سے کتنا پانی نکالا جا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور جو کسر رہ گئی تھی وہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کی وجہ سے سمندر کی سطح میں اضافے سے پوری ہو رہی ہے۔

ان تمام مسائل کی وجہ سے دارالحکومت کو نئی جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جکارتہ جس جزیرے پر واقع ہے اسے جاوا کہتے ہیں۔ ملک کی 60 فیصد آبادی یہیں رہتی ہے بلکہ انڈونیشیا کی آدھی سے زیادہ معیشت بھی اسی جزیرے پر ہے۔ لیکن نیا دارالحکومت جس جزیرے پر بنایا جا رہا ہے، وہ دُور دراز علاقے بورنیو میں واقع ہے۔ بورنیو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جزیرہ ہے جس کا تین چوتھائی علاقہ انڈونیشیا کے پاس جبکہ باقی علاقہ ملائیشیا اور برونائی کا حصہ ہے۔ انڈونیشیا والے حصے کو کلیمنتان کہا جاتا ہے اور صرف یہی حصہ ہی اتنا بڑا ہے کہ اس میں جاوا جیسے چار جزیرے آ جائیں۔
یہ علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں گھنے جنگلات، بڑے دریا اور حیرت انگیز جنگلی حیات۔ ہزاروں اقسام کے پودے، درخت اور چرند پرند پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماحولیاتی ماہرین دارالحکومت کو کلیمنتان لے جانے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔

لیکن حکومت کا اصرار ہے اور وہ اسی سال کام بھی شروع کر دے گی۔ دیکھتے ہیں کہ یہ نیا دارالحکومت کب مکمل ہوتا ہے اور یہ بھی کہ ملک کے سب سے بڑے شہر جکارتہ کا مستقبل کیا ہوگا؟
ویسے انڈونیشیا پہلا ملک نہیں ہے کہ جس نے دارالحکومت کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت مصر بھی ایک نیا دارالحکومت تعمیر کر رہا ہے۔ قاہرہ کی حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے 2015ء میں ایک نیا شہر بسانے کا خیال پیش کیا گیا تھا۔ اب اس سے 45 کلومیٹرز دُور صحرا میں ایک نئی دنیا آباد کی جا رہی ہے۔ 700 مربع کلومیٹرز کے رقبے پر پھیلے اس نئے شہر کو ابھی تک کوئی نام نہیں دیا گیا لیکن جلد ہی یہ مکمل ہو جائے گا اور اسے نام بھی مل جائے گا۔

اگر ماضی قریب میں دیکھیں تو میانمر یعنی برما نے بھی اپنا دارالحکومت تبدیل کیا تھا۔ 2005ء تک رنگون ملک کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت تھا۔ کسی زمانے میں تو پیا رنگون سے فون بھی کیا کرتے تھے لیکن اب تو اس سے دارالحکومت کا اعزاز بھی چھین لیا گیا ہے۔ برما کا نیا دارالحکومت نیپیڈا ہے، جو رنگون سے 320 کلومیٹرز دُور شمال میں ہے۔

وسطِ ایشیا کا سب سے بڑا ملک ہے قزاقستان، یہ بھی ایک مرتبہ اپنا دارالحکومت بدل چکا ہے۔ 1997ء میں دارالحکومت کو ملک کے سب سے بڑے شہر الماتی سے آستانہ منتقل کیا گیا۔ 2019ء میں تو آستانہ کا نام بھی بدل دیا گیا، اب اسے نور سلطان کہتے ہیں۔

مغربی افریقہ کے ملک آئیوری کوسٹ کا سب سے بڑا شہر آبیجان ہے، یہ پہلے دارالحکومت ہوتا تھا۔ 1960ء میں ایک نیا شہر بسانے اور اسے دارالحکومت بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ 1983ء میں تمام سرکاری دفاتر نئے شہر یاموسوکرو منتقل ہو گئے اور آج تک یہی ملک کا دارالحکومت ہے۔

آئیوری کوسٹ کے پاس ہی افریقہ کا ایک بڑا ملک نائیجیریا ہے۔ اس نے 1991ء میں اپنا دارالحکومت لاگوس سے ابوجا منتقل کیا تھا۔ جی ہاں! دارالحکومت ملک کے سب سے بڑے شہر ہی سے نکال کر دوسرے شہر لے جایا گیا تھا۔

ویسے پاکستان بھی یہی کر چکا ہے۔ 1959ء تک سب سے بڑا شہر کراچی ملک کا دارالحکومت تھا۔ پھر اچانک ایک نیا شہر بسانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ 1961ء میں راولپنڈی کے قریب مارگلہ کے دامن میں ایک نیا شہر تعمیر ہونا شروع ہوا اور 1967ء میں اسلام آباد پاکستان کا نیا دارالحکومت بن گیا۔

1950ء کی دہائی میں برازیل نے بھی پاکستان ہی کی طرح اپنا دارالحکومت خاص طور پر تیار کروایا تھا۔ یہاں بھی دارالحکومت کا اعزاز ملک کے سب سے بڑے شہر سے ہی چھینا گیا، یعنی ریو ڈی جینیرو سے اور برازیلیا کو نیا دارالحکومت بنایا گیا۔

تقریباً 100 سال پیچھے جائیں، جب 1923ء میں سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تھا اور ترکی ایک جمہوریت بنا تھا، تب بھی یہی ہوا تھا یعنی سب سے بڑے شہر استنبول کو چھوڑ کر حکومت نے اپنا مرکز دُور انقرہ منتقل کیا۔

آپ نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا ہے، شامت صرف بڑے شہروں کی آتی ہے۔ جب آبادی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو حکومت نیا شہر بسا کر وہاں آبادی کو منتقل نہیں کرتی، بلکہ خود نئے نویلے شہر میں جا کر ڈیرے جما لیتی ہے اور پرانے شہر کے مسائل کو ویسے ہی چھوڑ دیتی ہے۔ تبھی تو کہتے ہیں، یہ بِک گئی ہے گورمنٹ!


