میں

داستان شربت روح افزا کی

یہ نہ صرف پاکستان بلکہ برصغیر یہاں تک کہ خلیج میں بھی افطار کا اہم ترین مشروب ہے، کچھ لوگ لیموں نچوڑ کر اس کے ذائقے کو دوبالا کرتے ہیں تو چند کے خیال میں دودھ میں ملایا جائے تو مزا آ جاتا ہے۔ لیکن ”روح افزا“ پینے والے بہت کم افراد کو معلوم ہوگا کہ اس مشروب نے برصغیر کی 100 سالہ تاریخ دیکھی ہے۔ یہ ایک رجحان ساز مشروب ہے، جس کی وجہ سے ”لال شربت“ کی مقبولیت آج بھی عروج پر ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ روح افزا کیوں بنایا گیا تھا؟ یہ دراصل گرمی کے توڑ کے لیے تیار کی گئی یونانی دوا ہے۔

‏1908ء میں پرانی دہلی کے حکیم حافظ عبد المجید نے یہ یونانی شربت تیار کیا جو شہر کے عام افراد کو گرمی سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے روایتی یونانی طب میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں اور عرقیات کا استعمال کرکے ایک ایسا مشروب تیار کیا جو اختلاج قلب اور پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔ اس کی خوبیاں نام سے ہی سے ظاہر ہیں، ”روح افزا“ یعنی روح تک کو تازہ کردینے والا مشروب۔

‏1910ء میں ایک مصور مرزا نور احمد نے روح افزا کے لیے رنگین لیبل تیار کیے۔ اس وقت دہلی میں رنگین طباعت دہلی نہیں ہوتی تھی اس لیے انہیں بمبئی میں پارسیوں کے مشہور چھاپہ خانے بولٹن پریس سے تیار کروایا گیا۔

لیکن اسے دوا کے بجائے عام مشروب کا درجہ ملنے میں کچھ دہائیاں لگیں۔ ابتدائی مقبولیت کا اندازہ ہوجانے کے بعد حکیم عبد المجید نے چند دہائیوں بعد اسے ایک عام مشروب میں تبدیل کردیا۔ حکیم صاحب کے پڑپوتے، جن کا نام بھی عبد المجید ہی ہے، کہتے ہیں کہ ”جب انہوں نے پہلی بار روح افزا بنایا تو اس کی خوشبو اس طرح پھیلی کہ باہر لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے اور پوچھنے لگے کہ کیا ہورہا ہے؟ شربت کی یہ پہلی کھیپ تو ایک گھنٹے میں ہی ختم ہوگئی تھی۔“

عبد المجید آج ہمدرد ہندوستان کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ ”جب ایک مرتبہ سمجھنے کے بعد کہ روح افزا کو پیاس بجھانے اور تازہ دم کر دینے والے عام مشروب کے طور پر مارکیٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے، اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ یہاں تک کہ فضا سے پمفلٹ تک پھینکے گئے، تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام تک پیغام پہنچایا جاسکے۔“

پھر ”ٹرننگ پوائنٹ“ آیا، ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ نہ صرف ملک دو حصوں میں بٹا، روح افزا بھی ٹوٹ گیا۔ عبد المجید بتاتے ہیں کہ ”1947ء میں خاندان کے بیشتر اراکین پاکستان چلے گئے۔ صرف میرے دادا حکیم عبد الحمید اور ان کے دو صاحبزادے ہندوستان میں رہے۔ ان کے چھوٹے بھائی حکیم محمد سعید تک پاکستان چلے گئے۔“

پھر ایک بھائی نے ہندوستان میں اور ایک نے پاکستان میں ہمدرد دواخانہ کا پرچم بلند کیے رکھا۔ ہندوستان میں تو ہمدرد دواخانے کے قدم مضبوط تھے، لیکن حکیم سعید کو ابتدا میں سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی صاحبزادی، اور ہمدرد لیبارٹریز (وقف) پاکستان کی چیئرپرسن اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی سربراہ، سعدیہ راشد بتاتی ہے کہ ”ابو 9 جنوری 1948ء کو پاکستان پہنچے۔ بے سر و سامانی کے عالم میں والد صاحب نے کراچی کے علاقے آرام باغ میں دو کرائے کے کمروں میں پہلا دواخانہ کھولا۔“

پاکستان میں ہمدرد لیبارٹریز نے 1953ء تک اپنے قدم اچھی طرح جما لیے اور آج ملک کے اہم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ سعدیہ کے مطابق شربت کا نام شاعر پنڈت دیا شنکر نسیم کے مجموعے ”مثنوی گلزارِ نسیم“ سے لیا گیا ہے جس میں روح افزا ایک کردار کا نام تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ”پاکستان میں ہر چیز کا آغاز صفر سے کرنا تھا اس لیے یہاں روح افزا کا برانڈ بنانے میں بہت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدا میں تو روح افزا کی صرف چند سو بوتلیں فروخت ہوتی تھیں جو بڑھتے بڑھتے آج لاکھوں، کروڑوں تک پہنچ گئی ہیں۔“

بھارت کی ہمدرد لیبارٹریز کے چیف سیلز اینڈ مارکیٹنگ آفیسر منصور علی بتاتے ہیں کہ ”روح افزا کی مقبولیت سال بہ سال 20 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔“

سعدیہ راشد کہتی ہیں کہ ”سب کو اپنے بچپن کے وہ دن یاد ہوں گے جب ان کی مائیں پیار سے ان کے لیے روح افزا بناتی تھیں۔ گو کہ آج بہت سارے دیگر شربت بھی دستیاب ہیں، لیکن روح افزا کی مقبولیت آج بھی ویسی ہی ہے۔“

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے علاوہ روح افزا بنگلہ دیش میں بھی ہے؟ سعدیہ راشد بتاتی ہیں کہ ان کے والد حکیم محمد سعید نے ہمدرد کی ایک شاخ مشرقی پاکستان میں بھی کھولی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد انہوں نے دفتر اور کارخانہ بند نہیں کیا بلکہ اسے نئی مملکت بنگلہ دیش کے عوام کے لیے تحفے میں دے دیا، جسے اس کے ملازمین نے ہی چلایا اور سنبھالا۔“

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

وہ باتیں، جن کے بارے میں سائنس آج بھی بے بس ہے

اپنے بزرگوں سے یہ سوالات ضرور پوچھیں