میں

عام حرکتیں، جو ایک جگہ معمول تو دوسری جگہ انتہائی معیوب

کئی عام حرکتیں ایسی ہوتی ہیں جو چند ملکوں میں تو معمول ہوتی ہیں لیکن دوسرے مقامات پر انتہائی معیوب سمجھی جاتی ہیں۔ جیسا کہ دو انگلیوں سے انگریزی حرف ‘وی’ کا نشان بنانا ہو سکتا ہے برطانیہ میں، بلکہ کئی ملکوں میں، فتح کی علامت ہو لیکن اگر آپ نے صوبہ سندھ میں ایسا کیا تو اس کا مطلب سامنے والے کو لعنت دینا بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے جہاں بھی جائیں ثقافتی فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

دنیا بھر میں کئی ایسے اشارے، حرکات اور روایات ہیں جو چند ملکوں میں تو عام ہیں لیکن دوسری جگہوں پر انہیں سخت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ ٹپ دینا۔ امریکا، یورپ اور پاکستان وغیرہ میں بیروں کو ٹپ دینا ایک اچھا اور احسن عمل سمجھا جاتا ہے۔ وہ الگ بات کہ اس ٹپ کے چکر میں انہیں معمولی تنخواہوں پر رکھ لیا جاتا ہے اور یوں ٹپ ان کا اہم ذریعہ آمدنی بن جاتا ہے۔ لیکن جاپان اور جنوبی کوریا میں اگر آپ نے کسی کو ٹپ دی تو اس کا مطلب ہے اس کی بے عزتی کر دی۔ ان ممالک میں کام کرنے والے سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنا کام کرنے کی تنخواہ ملتی ہے اور وہ اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اس لیے انہیں کسی کی مہربانی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے اگر آپ جاپان یا جنوبی کوریا جا رہے ہیں تو یہ حرکت وہاں ہرگز مت کیجیے گا۔ ویسے جاپانی تو اتنے سخت مزاج ہیں کہ ہنستے ہوئے دانت نظر آنے کو بھی بے ادبی سمجھتے ہیں۔

جاپان میں کسی بھی ایسی جگہ پر کھانا، جو کھانے کی جگہ نہیں ہے یعنی ہوٹل، کیفے، ریستوران کے علاوہ تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ ویسے کسی حد تک ہمارے ہاں بھی یہ روایت موجود ہے اور چلتے پھرتے ہوئے کھانا کھانے کو اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔

ایک اور حرکت جو پاکستان میں بلکہ دنیا کے کئی ملکوں میں کی جاتی ہے کہ ٹیکسی کروانے کے بعد اس کی پچھلی نشست پر بیٹھ جاتے ہیں۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز میں آگے والی نشست پر ڈرائیور کے ساتھ نہ بیٹھنا غلط سمجھا جاتا ہے۔

امریکا میں پسندیدگی کے اظہار کے لیے انگوٹھا دکھایا جاتا ہے، گو کہ امریکی میڈیا کے عالمی اثرات کی وجہ سے یہ کافی پھیل چکا ہے لیکن مشرق وسطیٰ، مغربی افریقہ، لاطینی امریکا، روس اور یونان کے علاوہ برصغیر کے کئی علاقوں میں بھی انگوٹھا دکھانے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ویسے "ٹھینگا” کا مطلب سمجھتے ہیں نا آپ؟

ایک ہاتھ جیب میں ڈالنے کو ترکی اور جنوبی کوریا میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ہمارے ہاں بھی اسے لا اُبالی پن تصور کیا جاتا ہے لیکن امریکا میں یہ عام ہے۔

مغرب میں تو اُلٹا ہاتھ ہر کام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ وہ تو کھانے تک کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کر جاتے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ، برصغیر اور افریقہ میں الٹے ہاتھ کا استعمال اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کسی کو الٹے ہاتھ سے کوئی چیز دینا، یا وصول کرنا گویا اس کو اہمیت نہ دینا ہے۔ الٹے ہاتھ سے کھانے کو بھی بہت بُرا سمجھا جاتا ہے۔

ایک اور حرکت جو امریکا میں تو عام دکھائی دیتی ہے لیکن باقی دنیا کے کئی ممالک میں گھٹیا ترین سمجھی جاتی ہے، وہ ہے تحفے کو فوری طور پر کھول لینا۔ پاکستان میں تو اگر کوئی تحفہ دے تو جب تک وہ چلا نہ جائے، تب تک اسے نہیں کھولا جاتا اور یہی روایت ہندوستانی و چینی ثقافت میں بھی ہے لیکن امریکا میں تو تحفہ لیتے ہی اسے کھول کر دیکھ لیتے ہیں۔

اسی طرح اپنے پیروں یا جوتوں کا رخ کسی کی طرف کرنا مسلم، ہندو اور بدھ ممالک میں بہت بُرا سمجھا جاتا ہے اور یہ دوسرے کی بے عزتی کے مترادف ہے۔ ان ممالک میں پیروں کو جسم کا سب سے نچلا اور گندا حصہ سمجھا جاتا ہے اس لیے یہاں احتیاط کرنا ضروری ہے۔

عرب ثقافت مہمان نوازی کو بہت اہمیت دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مہمانوں کو بھی کچھ تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں جیسا کہ اگر کھانے کو کوئی چیز پیش کی جائے تو انکار نہیں کرنا۔ ہمارے ہاں بھی روایتی میزبانی یہی تقاضا کرتی ہے کہ مہمان کسی چیز کو کھانے سے انکار نہ کرے۔ لیکن مغرب میں اگر کوئی چیز آپ نہیں لینا چاہتے تو صاف انکار کر سکتے ہیں اور اس کا بُرا بھی نہیں منایا جاتا۔

کھانے کی بات نکلی ہی ہے تو یہ بھی جان لیں کہ چند ممالک میں تو اپنے کھانے کی پلیٹ مکمل طور پر صاف کر دینا اچھی بات سمجھی جاتی ہے یعنی آپ کو کھانا بہت مزیدار لگا ہے لیکن چین، روس، فلپائنز اور تھائی لینڈ میں معاملہ الٹ ہے۔ وہاں اگر آپ نے اپنی پلیٹ میں کھانا مکمل طور پر ختم کر دیا تو اس کا مطلب سمجھا جاتا ہے کہ آپ کی بھوک اب بھی باقی تھی، اور میزبان آپ کو بھرپور کھانا فراہم نہیں کر سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا ‘کوہِ نور’ کیسے چرایا گیا؟

آخر روپیہ کو روپیہ ہی کیوں کہا جاتا ہے؟