میں

دنیا کے بہترین قومی ترانے

کسی بھی ملک کا بہترین اور مقبول ترین نغمہ کون سا ہوتا ہے؟ اس کا قومی ترانہ! ایک ایسا نغمہ جس سے وطن کی خوشبو آتی ہو، جس کو سن کر آپ کی مٹی سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے، جو آپ کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو گرما دے۔

ہر قوم کے لیے اپنا ترانہ سب سے اچھا ہوتا ہے، لیکن چند قومی ترانے ایسے ہیں، جو بہت مقبول ہیں۔ آپ چاہے اس ملک سے تعلق نہ بھی رکھتے ہوں، ان قومی ترانوں کو سن کر اس ملک کے عوام کی اپنے وطن سے والہانہ عقیدت اور جذبے کو محسوس کر سکتے ہیں۔ ہم نے 10 ایسے قومی ترانوں کا انتخاب کیا ہے، جو تاریخی اہمیت بھی رکھتے ہیں، منفرد بھی ہیں، جن کی دھن شاندار اور شاعری جاندار ہے۔

‏10۔ جنوبی افریقہ – ‘نکوسی کلیلے افریقہ’

یہ افریقہ کے عظیم ترانے ‘نکوسی کلیلے افریقہ’ پر مبنی ایک خوبصورت ترانہ ہے جس میں انگریزی زبان کے اشعار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اسے 1897ء میں اینوک سونٹونگا نے لکھا تھا۔ دراصل یہ ایک حمد ہے جس میں خدا سے افریقہ کے لیے دعا کی گئی ہے۔ جب جنوبی افریقہ پر نسل پرستوں کی حکومت تھی تو اسے سیاہ فاموں کا نمائندہ ترانہ سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں نیلسن منڈیلا حکومت نے ‘ڈائی سٹم وان سوئیڈ-افریقہ’ کو ملا کر جنوبی افریقہ کا ایک قومی ترانہ بنایا۔ اس ترانےکی خاص بات یہ ہے کہ یہ پانچ زبانوں میں ہے۔ نکوسی کلیلے افریقہ تنزانیہ کا بھی قومی ترانہ ہے، البتہ اس میں جنوبی افریقہ کے شامل کیے گئے حصے موجود نہیں ہیں۔


‏9۔ امریکا – ‘دی اسٹار اسپینگلڈ بینر’

امریکا کا قومی ترانہ ‘دی اسٹار اسپینگلڈ بینر’ کہلاتا ہے۔ اسے ایک وکیل اور نوآموز شاعر فرانسس اسکاٹ کی نے 1814ء میں لکھا تھا۔ برطانیہ کے خلاف 1812ء کی جنگ میں شاندار کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے بعد اسکاٹ نے قلم اٹھایا اور قلعے پر لہراتے امریکی پرچم کو ذہن میں رکھ کر خوبصورت اشعار لکھے۔ مارچ 1931ء میں کانگریس نے باقاعدہ قرارداد کے ذریعے اسے قومی ترانے کا روپ دیا۔ جوش و جذبے کے ساتھ ساتھ یہ ایک مشکل ترانہ ہے، جیسا کہ عام طور پر مغرب کے کئی ممالک کے ترانے بھی ہیں۔ ان کو پڑھنے کے لیے جس اونچی تان کی ضرورت ہوتی ہے، وہ عوام میں پائی نہیں جاتی۔ پھر بھی امریکا کی بڑی تاریخ اور دنیا پر اس کے اثرات کی وجہ سے یہ بہت زیادہ مشہور قومی ترانہ ہے۔


‏8۔ برطانیہ – ‘گاڈ سیو دی کوئن’

ایک وقت تھا یہ ترانہ دنیا کے بہت بڑے رقبے پر گونجتا تھا، کبھی ملکہ تو کبھی بادشاہ کے لیے حفاظت کی دعا کے ساتھ۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے لے کر امریکا اور کینیڈا تک، جہاں جہاں برطانیہ کا قبضہ تھا۔ اس ترانے کا خالق کا آج تک علم نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ 17 ویں صدی میں لکھا گیا تھا۔ کبھی یہ ہندوستان میں بھی گایا جاتا تھا، لیکن آج برطانیہ میں ہی اسے ایک ‘مضحکہ خیز’ ترانہ کہا جاتا ہے۔ جہاں وطن سے محبت کرنے والے کئی برطانوی اسے پسند کرتے ہیں وہیں جمہوریت پسند حلقوں میں ایسے افراد بھی ہیں جو اس کی جگہ کسی نئے ترانے کے انتخاب کی بات کرتے ہیں۔ اپنی طویل تاریخ کی وجہ سے ‘گاڈ سیو دی کوئن’ کو عالمی ترانوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔


‏7۔ بھارت – جنَ گنَ منَ

بھارت کا قومی ترانہ ‘جن گن من’ دراصل سنسکرت زدہ بنگالی زبان میں ہے، جو معروف بنگالی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے لکھا تھا۔ اسے پہلی بار دسمبر 1911ء میں انڈین نیشنل کانگریس کے ایک اجلاس میں پڑھا گیا تھا اور تقسیم ہند کے بعد 24 جنوری 1950ء کو آئین ساز اسمبلی نے اسے قومی ترانے کہ درجہ دیا۔ مغرب کے جوشیلے، اور مشکل، ترانوں کے مقابلے میں اس ترانے میں مشرق کی حلاوت، نرمی اور چاشنی پائی جاتی ہے، جس سے وطن سے محبت جھلکتی ہے۔ 


‏6۔ فرانس – ‘لا مارسیئز’

ایک ترانہ جس کی تاریخ انقلاب فرانس سے جا ملتی ہے۔ اسے 1792ء میں کلاڈ جوزف روجیت نے لکھا تھا، جب فرانس نے آسٹریا کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ یہ ایک انقلابی گانا ہے، آزادی کا ترانہ ہے جس نے فرانس کے شہریوں کو تحریک دی اور ابھرتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہونے کا پیغام دیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فرانس کے حالات کافی خراب تھے، اس لیے جذبات ابھارنے والے ایسے ہی کسی ترانے کی ضرورت تھی۔ یہ بھی ایک مشکل ترانہ ہے اور "عوام کی پہنچ سے باہر ہے۔” اس لیے ماہر گلوکاروں کی موجودگی میں ہی پڑھا جاتا ہے۔ 


‏5۔ پرتگال – ‘آ پورٹوگوئسا’

پرتگال کا قومی ترانہ ‘آ پورٹوگوئسا’ 1890ء میں اینریکے لوپیز ڈی مینڈوچا نے لکھا تھا۔ یہ 1891ء میں جمہوریت کے حق میں ہونے والی بغاوت میں استعمال کیا گیا اور جب 1911ء میں پرتگال جمہوریہ بنا تو اس کا قومی ترانہ قرار پایا۔ اس کی شاعری سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایک فوجی یا انقلابی ترانہ ہے۔ آپ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہیں اس کی شاندار دھن اور گلوکاروں کا جوش و جذبہ آپ کو متاثر کرکے رہے گا۔ بلاشبہ یہ یورپ کے بہترین قومی ترانوں میں سے ایک ہے۔


‏4۔ بنگلہ دیش ‘امار شونار بنگلہ’

رابندرناتھ ٹیگور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی شاعری دو ممالک میں ترانوں کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ ایک بھارت اور دوسرا بنگلہ دیش میں۔ ‘امار شونار بنگلہ’ 1905ء میں لکھا گیا یعنی اس وقت جب انگریز سرکار متحدہ بنگال کو تقسیم کر رہی تھی۔ پھر 1971ء کی جنگ کے دوران ہی، جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا، یہ گانا علیحدگی پسند تحریک کا ترانہ بن چکا تھا۔ اگر وطن سے محبت کو نرمی کے ساتھ کوئی ترانہ بیان کرتا ہے تو وہ ‘امار شونار بنگلہ’ ہی ہے جس کی دھن انتہائی خوبصورت ہے لیکن لگتا ہے اس کو گانے کے لیے پیشہ ور گلوکار بننا پڑے گا ورنہ چند مقامات ایسے ہی جہاں ہم جیسوں کی تو تان ٹوٹ جائے گی۔ اس کے باوجود اس ترانے کی خوبصورتی میں کوئی شک نہیں۔


‏3۔ ترکی – استقلال مارشی

ترکی اپنی عظیم تاریخ کی وجہ سے مسلم ممالک میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ جب سلطنت عثمانیہ ختم ہوگئی، ایک عظیم تاریخ مکمل ہوئی اور ترکی جمہوری دور میں داخل ہونے لگا تو 1921ء میں قومی ترانے کے انتخاب کے لیے ایک قوم مقابلے کا اہتمام کیا گيا تھا۔ کل 724 ترانے پیش ہوئے جن میں سے محمد عاکف ارصوی کا ترانہ ‘استقلال مارشی’ منتخب ہوا۔ عاکف نے ابتدا میں مقابلے میں حصہ لینے سے انکار کردیا تھا کیونکہ جیتنے والے کے لیے نقد انعام کے مخالف تھے۔ لیکن حکومتی یقین دہانی پر انہوں نے مقابلے میں حصہ لیا اور جیت بھی لیا۔ اسے یکم مارچ 1921ء کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور بالاتفاق رائے قومی ترانہ تسلیم بھی کرلیا گیا۔ تاریخی حیثیت رکھنے کے علاوہ اس ترانے کی دھن میں مشرق و مغرب کا امتزاج خوب نظر آتا ہے کیونکہ ترکی دونوں براعظموں کے سنگم پر واقع ہے۔


‏2۔ روس – وفاق روس کا ترانہ

روس کی تاریخ گزشتہ 100 سالوں میں کافی تبدیل ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترانہ بھی بدلتا رہا ہے۔ 1944ء میں اسٹالن کے دور میں ایک ترانہ اختیار کیا گیا تھا لیکن 1956ء میں اسے صرف دھن تک محدود کردیا گیا کیونکہ اس میں متعدد اشعار اسٹالن کے بارے میں تھے جس کے دور کو روس بھلانا چاہتا تھا۔ 1977ء میں اس میں نئے الفاظ شامل کیے گئے جن کا زیادہ زور دوسری جنگ عظیم اور کمیونزم کی کامیابی پر تھا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ایک نیا ترانہ اختیار کیا گیا لیکن اس میں بھی اشعار نہیں تھے۔ یہاں تک کہ ولادیمر پیوتن نے پرانا سوویت ترانہ بحال کیا، لیکن نئے اشعار کے ساتھ جو روس کی تاریخ اور روایات کا امین ہیں۔ 2000ء میں یہ قومی ترانہ بنا۔ اس کی زبردست موسیقی میں اور گانے کے انداز میں آپ کو جوش، جذبہ، ہمت اور جرات سب سنائی دے گا۔ لیکن آخر میں وہی بات کہ یہ عوام کے لیے نہیں ہے، وہ اتنی اونچی تان کے ساتھ اکیلے نہیں پڑھ سکتے۔


‏1۔ پاکستان – پاک سرزمین شادباد

پاکستان کا قومی ترانہ صرف اس لیے دنیا کا بہترین ترانہ نہیں کہ یہ ہمارے وطن کا ہے بلکہ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس میں آپ کو نرمی اور چاشنی بھی ملے گی، جوش و جذبہ بھی، بہترین دھن بھی اور زبردست شاعری بھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے قومی ترانے کی پہلے صرف دھن بنی تھی جو 1949ء میں احمد چھاگلا نے ترتیب دی تھی۔ ترانہ 1952ء میں حفیظ جالندھری نے لکھا جسے اگست 1954ء میں قومی ترانہ قرار دیا گیا۔ ‘پاک سرزمین شادباد’ پڑھنے میں آسان بھی ہے اور عوامی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بہترین ترانہ قرار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

دنیا بھر میں سلام کے مختلف طریقے

وہ باتیں، جن کے بارے میں سائنس آج بھی بے بس ہے