میں ,

یہ جھیل ہے یا سمندر؟ وہ جھیلیں جو سمندر کہلاتی ہیں

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کی سب سے بڑی جھیل کا نام بحیرۂ قزوین یعنی Caspian Sea ہے؟ آپ حیران ہو رہے ہوں گے تو اگر یہ جھیل ہے تو اسے سمندر کیوں کہتے ہیں؟ یہی سوال ہمارے ذہن میں بھی آیا تھا اور ہم نے فیصلہ کیا کہ نہ صرف خود اِس سوال کا جواب معلوم کریں گے بلکہ آپ کو بھی بتائیں گے۔ تو آئیے اِس گتھی کو سلجھاتے ہیں۔

دنیا میں ایسی کئی جھیلیں ہیں جنہیں سمندر کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ ہے: انسانوں کی غلط فہمی۔ پرانے زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ سمندر کا پانی نمکین ہوتا ہے اور جھیل کا میٹھا، اس لیے ایسی تمام بڑی جھیلیں، جن کا پانی نمکین تھا، انہیں سمندر سمجھ لیا گیا ۔ مثلاً کیسپیئن سی، ڈیڈ سی، ارال سی۔ ان منفرد، مختلف اور حیرت انگیز جھیلوں کے ذکر میں سب سے پہلے بات کرتے ہیں بحیرۂ قزوین یعنی Caspian Sea کی۔

بحیرۂ قزوین

یہ بہت، بہت، بہت بڑی جھیل ہے، اتنی بڑی کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی جھیل بھی اِس سے تقریباً پانچ گُنا چھوٹی ہے۔ یہ  یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک بہت بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ پورے 3 لاکھ 72 ہزار مربع کلومیٹرز پر، یعنی تقریباً آدھے پاکستان جتنا۔ صرف شمالاً جنوباً ہی اس کی لمبائی 1,200 کلومیٹرز بنتی ہے۔ یہ کراچی سے اسلام آباد جتنا فاصلہ ہے۔

بحیرۂ قزوین کا خلا سے منظر

ویسے بحیرۂ قزوین کا پانی ہے تو کھارا، لیکن بڑے سمندروں کے پانی کے مقابلے میں دیکھا جائے تو یہ تقریباً ایک تہائی نمکین ہے۔ یہاں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر بھی ہیں، جن سے آذربائیجان، قزاقستان اور روس خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

بحیرۂ قزوین کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 3,363 فٹ ہے، یعنی یہ خلیجِ فارس سے زیادہ گہری ہے۔ اِس کے کئی نام بھی ہیں، ایران میں اسے دریائے خزر یا دریائے مازندران بھی کہتے ہیں۔ جی ہاں! ایران میں جھیل کو دریا کہا جاتا ہے اور جسے ہم دریا کہتے ہیں اسے فارسی میں رُود کہتے ہیں۔ دیکھیں، آپ کی معلومات میں یہ بھی نیا اضافہ کر دیا!

بحیرۂ قزوین کے تیل اور گیس کے ذخائر

خیر، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جھیل وہ ہوتی ہے جس کے چاروں طرف خشک علاقہ ہو۔ لیکن بحیرۂ قزوین کو ایک نہر کے ذریعے دنیا بھر کے سمندروں سے ملایا گیا ہے۔ اس نہر کانام ہے وولگا-ڈون کینال۔ جس طرح نہرِ سوئز بحیرۂ روم کو بحیرۂ قلزم سے ملاتی ہے، اسی طرف یہ وولگا-ڈون کینال بحیرۂ قزوین کو دنیا کے دوسرے سمندروں سے جوڑتی ہے۔ لیکن کیسے؟ بحیرۂ قزوین کا قریبی ترین سمندر بھی اس سے کم از کم 500 کلومیٹرز دُور ہے۔ تو جناب اصل میں یہ ممکن ہوا دو دریاؤں کی وجہ سے، ایک کا نام ہے وولگا اور دوسرے کا نام ہے ڈون۔ دریائے وولگا بحیرۂ قزوین میں گرتا ہے جبکہ دریائے ڈون بحیرۂ ازوف میں جو بحیرۂ اسود یعنی Black Sea سے ملا ہوا ہے۔ ایک جگہ ایسی آتی ہے جہاں ان دونوں دریاؤں کا فاصلہ لگ بھگ 60 کلومیٹرز رہ جاتا ہے۔ یہیں پر روس نے 1952ء میں ایک نہر بنائی تھی، جس سے کوئی بھی جہاز بحیرۂ قزوین تک پہنچ سکتا ہے۔

دریائے وولگا اور دریائے ڈون کے درمیان جہاز رانی کے لیے بنائی گئی وولگا-ڈون کینال

اب ہوتا یہ ہے کہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے آئل ٹینکرز نکلتے ہیں اور بحیرۂ قزوین میں سفر کرتے ہوئے دریائے وولگا میں آ جاتے ہیں۔ پھر وولگوگراڈ کے پاس اِس نہر میں داخل ہوتے ہیں اور دریائے ڈون میں پہنچ جاتے ہیں۔ باقی سفر وہ اسی دریا میں کرتے ہوئے بحیرۂ ازوف میں آ جاتے ہیں اور وہاں سے دنیا کی جس بندرگاہ پر چاہے جا سکتے ہیں۔

ہم وولگا-ڈون کینال کا ذکر ایک علیحدہ تحریر میں بھی کریں، جس میں ذرا تفصیلاً بات ہوگی۔ تو ابھی چلتے ہیں اپنی اگلی جھیل کی طرف، جس کی داستان بہت ہی افسوس ناک ہے۔ اس جھیل کا نام ہے بحیرۂ ارال۔

بحیرۂ ارال

ایک زمانہ تھا بحیرۂ ارال دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھا۔ 68 ہزار مربع کلومیٹرز پر پھیلی یہ جھیل واقعی ایک سمندر لگتی تھی لیکن پھر یہ سکڑنے لگی اور کم ہوتے ہوتے اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ جہاں کبھی تاحدِ نگاہ پانی ہی پانی ہوتا تھا، بحری جہاز چلا کرتے تھے، اب وہاں دُھول اڑتی ہے۔ جن علاقوں میں جھیل کے کچھ آثار باقی بچے ہیں،  وہاں پانی اتنا کھارا ہے کہ اس میں موجود تمام جاندار مر چکے ہیں۔ اب تو پرندے بھی ہجرت کر کے وہاں نہیں ٹھیرتے۔  بحیرۂ ارال کو بحال کرنے کی کئی کوششیں ہوئیں، لیکن سب ناکام ہو چکی ہیں۔ اب یہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ انسان کی قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ کتنا بھیانک ہو سکتا ہے۔

بحیرۂ ارال: بائیں جانب 1989ء میں اور دائیں طرف 2014ء کا منظر

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ سب ہوا کیسے؟ اصل میں تقریباً 100 سال پہلے سوویت یونین نے وسط ایشیا پر قبضہ کیا تھا۔ اِس خطے کے وسائل کا فائدہ اٹھانے کے لیے ، یا یوں کہہ لیں کہ لوٹنے کے لیے، سوویت یونین نے کچھ ایسے فیصلے کیے جو بہت خطرناک تھے۔ اصل میں ارال کو دو دریاؤں سے پانی ملتا تھا، آمو دریا اور سیر دریا سے۔ ان دونوں دریاؤں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر کپاس کی کاشت ہوتی تھی۔ جس کی پیداوار بڑھانے کے لیے روس نے دونوں دریاؤں کے درمیانی علاقوں میں نہروں کا جال بچھا دیا۔ کپاس کی کاشت تو عروج پر پہنچ گئی، لیکن دونوں دریاؤں سے بحیرۂ ارال میں ملنے والا پانی کم ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ پانی نہ آنے کی وجہ سے جھیل خشک ہونا شروع ہو گئی۔ آج یہ اپنے اصل سائز کے مقابلے میں 10 فیصد رہ گئی ہے۔ بحیرۂ ارال کا مشرقی حصہ تو مکمل طور پر خشک ہے۔ اتنا خشک کہ اب اسے جھیل نہیں صحرائے ارال قم کہتے ہیں۔

بحیرۂ ارال کا زوال، سالہا سال

اسے ماحولیات کے حوالے سے دنیا کی بد ترین آفتوں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ علاقے میں ماہی گیری کی صنعت تباہ ہو چکی ہے، آلودگی اپنے عروج پر ہے، جھیل کے خشک ہو جانے کے بعد جو نمکیات بچی ہیں، وہ ہواؤں کے ساتھ اُڑتی پھرتی ہیں اور ارد گرد جو زرخیز علاقے موجود ہیں، ان کی فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ ختم ہونے سے اس علاقے کے درجہ حرارت میں بھی بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

اب ہم بر اعظم ایشیا کے دوسرے کنارے کی طرف چلتے ہیں، جہاں ایک بہت ہی انوکھی، بہت مشہور اور حیرت انگیز جھیل واقع ہے، ایسی جھیل جسے سمندر کہا جاتا ہے۔ نام ہے بحیرۂ مردار!

بحیرۂ مردار

‏Dead Sea یعنی بحیرۂ مردار

بحیرۂ مردار کو انگریزی میں Dead Sea کہتے ہیں۔ یہ صرف 60 مربع کلومیٹرز کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے لیکن پھر بھی اسے سمندر کہا جاتا ہے، حیرت ہے۔

ڈیڈ سی تو اتنا نمکین ہے، اتنا نمکین ہے کہ اس میں کوئی جاندار زندہ بھی نہیں رہ سکتا۔ اس کے پانی میں فی کلو نمک کی شرح 342 گرام ہے یعنی 34.2 فیصد۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کوئی ڈوب ہی نہیں سکتا۔ لوگ بحیرۂ مردار کے پانی میں لیٹ جاتے ہیں اور سطح پر تیرتے رہتے ہیں۔ یعنی جنہیں تیراکی نہیں آتی، ان کے بھی فُل مزے!

تیرنے کی ضرورت ہی نہیں

یہ سطحِ سمندر سے بہت نیچے ہے، اس کے ساحل کے ساتھ ایک مقام پر گہرائی 1,412 فٹ ہے یعنی یہ زمین کا سب سے نچلا مقام ہے۔ بحیرۂ مردار کی ایک وجہ شہرت یہ ہے کہ یہ وہی مقام ہے جہاں لوط علیہ السلام کی قوم رہتی تھی۔ جن کی غلیظ حرکتوں کی وجہ سے اللہ نے ان پر ایک بھیانک عذاب بھیجا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی عذاب کی وجہ سے علاقہ اتنا دھنس گیا ہے کہ آج دنیا میں سب سے نچلا مقام ہے۔

ویسے بحیرۂ مردار بھی بہت تیزی سے خشک ہو رہا ہے۔ 1930ء میں اس کا رقبہ 1,050 مربع کلومیٹرز تھا لیکن اب یہ صرف 605 مربع کلومیٹرز پر باقی رہ گیا ہے، یعنی تقریباً آدھا۔ اسے بحال کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ اردن چاہتا ہے کہ وہ بحیرۂ احمر کا پانی ایک پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ مردار تک لائے۔ 180 کلومیٹرز لمبی اس پائپ لائن کو بننے میں پانچ سال لگیں گے۔ لیکن اصل مسئلہ ہے اس پر آنے والی لاگت کا، اس کی تعمیر پر پورے 10 ارب ڈالرز لگیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سالوں گزر گئے ہیں، ابھی تک اس منصوبے کا آغاز ہی نہیں ہوا۔

بحیرۂ مردار کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے 10 ارب ڈالرز کا منصوبہ

بحیرۂ طبریہ

بحیرۂ طبریہ

بحیرۂ مردار سے سے کچھ دُور بحیرۂ طبریہ واقع ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ میٹھے پانی کی جھیل ہونے کے باوجود اسے Sea Of Galilee کہتے ہیں۔ یہ وہی جھیل ہے جس کے خشک ہونے کو احادیث مبارکہ میں قیامت کی ایک نشانی قرار دیا گیا ہے۔ اس جھیل کی سطح میں بہت تیزی سے کمی آ رہی ہے  اور اسے بچانے کے لیے بڑی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

سالٹن سی

سالٹن سی

اب اس آخری جھیل کا ذکر کہ جسے سمندر کہا جاتا ہے، یہ ہے امریکا کا سالٹن سی (Salton Sea)۔ یہ ریاست کیلیفورنیا کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ 890 مربع کلومیٹرز پر پھیلی  نمکین پانی کی یہ جھیل سطحِ سمندر سے 235 فٹ نیچے ہے۔ یہ بھی بہت تیزی سے سکڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے ارد گرد کے علاقوں کے لیے بڑے ماحولیاتی مسائل کھڑے ہو رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

[وڈیوز] مری کا بائیکاٹ! جائیں تو جائیں کہاں؟

دنیا کے طاقتور اور کمزور ترین پاسپورٹس