کیا آپ نے نیٹ فلکس کی سیریز ‘دی کراؤن’ دیکھی ہے؟ یہ برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ II کی زندگی کے بارے میں ہے۔ اِس سال نومبر میں ‘دی کراؤن’ کا پانچواں سیزن آئے گا اور یقین کریں کہ یہ سب سے خطرناک سیزن ہوگا۔ کیونکہ اس میں 1990ء کی دہائی کا احاطہ کیا جائے گا، یعنی وہی دور جس میں ملکہ کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس اور ان کی مشہورِ زمانہ بیوی لیڈی ڈیانا کی طلاق ہوئی اور کچھ ہی عرصے بعد ڈیانا ایک حادثے میں ماری گئیں۔
اس پورے ہنگامہ خیز دور کا ایک اہم کردار پاکستانی نژاد ڈاکٹر حسنات خان بھی تھے۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں ‘دی کراؤن’ کے پانچویں سیزن پر بہت زیادہ بات ہو رہی ہے۔ ایک خبر کے مطابق اس سیزن میں پاکستان کے نامور اداکار ہمایوں سعید ڈاکٹر حسنات خان کا کردار ادا کریں گے۔
لیکن ڈاکٹر حسنات ہیں کون؟ لیڈی ڈیانا کی زندگی میں اُن کا کردار کیا تھا؟ اُن کے بارے میں ڈیانا کے قریبی دوست کیا کہتے ہیں اور وہ آج کل کیا کر رہے ہیں؟ اس بارے میں آپ کو آج بتائیں گے۔
ڈاکٹر حسنات اپریل 1958ء کو پاکستان کے شہر جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے وہاں کے مختلف ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں۔ لیکن ان کی وجہ شہرت ہارٹ سرجن ہونا نہیں بلکہ کروڑوں دلوں کی ملکہ ڈیانا کا دوست ہونا ہے۔
لیڈی ڈیانا کی شادی 1981ء میں برطانیہ کے شہزادہ چارلس سے ہوئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ ڈزنی کی کسی فلم میں شہزادی کو اپنے خوابوں کا شہزادہ مل گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی فلم نہیں ہوتی۔ شہزادہ چارلس اور ڈیانا کے تعلقات خراب ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ 1992ء میں معاملہ علیحدگی اور 1996ء میں طلاق تک پہنچ گیا۔ لیکن طلاق سے پہلے 1995ء میں ڈیانا کی اتفاقاً ڈاکٹر حسنات سے ملاقات ہو گئی اور ان کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہی حسنات کے عشق میں مبتلا ہو گئی تھیں۔
وہ چند ہفتوں میں کئی مرتبہ ڈاکٹر حسنات کے ہسپتال میں آئیں اور دونوں کی دوستی تقریباً دو سال تک چلی، جس میں ڈیانا کئی بار چھپ چھپ کر ڈاکٹر حسنات سے ملی۔ انہوں نے پاکستانی کلچر بھی اپنایا، کئی مرتبہ شلوار قمیص میں دیکھی گئیں اور چند حلقے تو کہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر حسنات کی خاطر اسلام تک قبول کرنے کو بھی تیار تھیں۔
لیکن پھر اچانک لیڈی ڈیانا کی موت واقع ہو گئی۔ نہ انہوں نے بتایا اور نہ ڈاکٹر حسنات نے کہ آخر دونوں کی دوستی کیوں ختم ہوئی؟

ڈیانا حسنات کو ‘مسٹر ونڈرفل’ کہتی تھیں، اُن کے دوست کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر حسنات ڈیانا کی سچی محبت تھے۔ وہ حسنات کے معاملے میں اتنی سنجیدہ تھیں کہ مئی 1996ء میں اُن کے گھر والوں سے ملاقات کے لیے پاکستان تک چلی گئی تھیں۔ وِیک اینڈ پر اُن کے لیے کھانا بھی پکاتیں۔ کئی بار انہوں نے حسنات کے اپارٹمنٹ کی صفائی بھی کی، ان کے کپڑے استری کیے اور میلے برتن بھی دھوئے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ حسنات کے ساتھ مل کر ایک عام زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔
لیکن ڈاکٹر حسنات کے لیے دنیا کی مشہور ترین خاتون کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بہت مشکل تھا۔ وہ اپنے کام کو بہت پسند کرتے تھے لیکن یہ ایسا کام تھا جو فوکس مانگتا ہے۔ ہارٹ سرجن کی توجہ ذرا سی اِدھر اُدھر ہو تو سمجھیں بندہ گیا!
پھر ڈاکٹر حسنات کا مزاج بھی ایسا تھا کہ وہ نہ شہرت چاہتے تھے اور نہ ہی امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ والی زندگی۔ ڈیانا نے ایک مرتبہ حسنات کو ایک گاڑی تحفے میں دی تھی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے کبھی ڈیانا سے کوئی مہنگا تحفہ نہیں لیا۔
لیکن پھر اچانک ان کے تعلقات کی خبریں اخباروں میں آ گئیں۔ ڈیانا نے کئی انٹرویوز دے کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش تو کی لیکن ڈاکٹر حسنات کے لیے حالات بہت مشکل ہو گئے۔
ایک طرف خاندان کی مخالفت، دوسری جانب میڈیا میں خبریں آنے کے بعد تذلیل، جو کمی رہ گئی تھی وہ نسل پرستوں کی جانب سے دھمکی آمیز پیغامات ملنے سے پوری ہو گئی۔ انہوں نے چند دنوں کے لیے کنارہ کشی ہی کو مناسب سمجھا اور اسی دوران ڈیانا کو طلاق ہو گئی۔ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ جنوبی فرانس چلی گئیں، جہاں اُن کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور وہ چل بسیں۔
کچھ سال پہلے ایک ڈاکیومینٹری فلم ریلیز ہوئی ہے جس کا نام "ڈیانا کے آخری 100 دن” ہے، اس میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ حسنات ڈیانا کی آخری محبت تھے۔ دودی الفائد کے ساتھ ڈیانا کا تعلق بھی دراصل حسنات سے ہونے والے جھگڑے کے بعد محض انہیں جلانے کے لیے تھا۔ اس فلم کے مطابق جس دن پیرس میں ڈیانا اور دودی کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا، اس روز بھی حسنات نے ڈیانا کو فون کیا تھا لیکن ان کا رابطہ نہیں ہو پایا۔
اس سے پہلے حسنات خان اور لیڈی ڈیانا کی داستان 2013ء کی فلم ‘ڈیانا’ کا بھی بنیادی موضوع رہی ہے۔ اس فلم میں ڈاکٹر حسنات کا کردار نوین اینڈریوز نے ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر حسنات واقعی ایک جنٹل مین ہیں، ایک بہت سلجھے ہوئے آدمی۔ شاید ڈیانا کی زندگی میں ڈاکٹر حسنات جتنا کوئی سمجھدار مرد نہیں آیا ہوگا۔ وہ ہمیشہ شہرت سے دُور رہے، حالانکہ بہت شہرت حاصل کر سکتے تھے۔ ڈیانا کی اچانک موت کے بعد جب جتنے منہ اتنی باتیں تھیں، وہ بہت کچھ کہہ سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی زبان بند رکھی۔ یہی نہیں بلکہ ڈیانا کے بارے میں وہ کوئی کتاب لکھ کر بہت کما سکتے تھے، کروڑوں میں کھیل سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ ستمبر 1997ء میں ڈیانا کی آخری رسومات میں شریک ہوئے لیکن کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی، جس سے اُن کے احترام میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو۔
ڈیانا کو آج بھی دنیا بھر میں یاد کیا جاتا ہے، لیکن ڈاکٹر حسنات آج بھی برطانیہ میں ایک خاموش زندگی گزار رہے ہیں، ہمیشہ کی طرح لائم لائٹ سے کہیں دُور! ڈیانا کی ایک دوست نے بتایا کہ ایک بار ڈیانا نے اُن سے کہا تھا کہ
میرے ساتھ سب نے دھوکا کیا۔ حسنات واحد آدمی تھا جس نے کبھی مجھے دھوکا نہیں دیا۔






