میں

اپنی جان دینے والا ”گمنام“ خلا باز

دنیا آج یوری گیگارین کو جانتی ہے، خلا میں جانے والا پہلا آدمی جنہوں نے 1961ء میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہوگئی۔ وقت کی سپر پاورز امریکا اور سوویت یونین یعنی موجودہ روس کے درمیان ایک زبردست "خلائی دوڑ” شروع ہوگئی۔ یہ دوڑ 1969ء میں اس وقت اپنے عروج پر پہنچی جب امریکا کے اپالو 11 مشن کے ذریعے انسان نے چاند پر قدم رکھا۔ نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے وہ شہرت حاصل کی کہ آج 47 سال گزرنے کے بعد بھی ان کو دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خلائی دوڑ کا ایک کردار، جس کی کہانی سب سے زیادہ دردناک ہے، آج کوئی اس کے نام سے واقف نہیں۔ یہ 1967ء میں ایک خلائی مشن میں جان دینے والے ولادیمر کوماروف تھے۔

ولادیمر کوماروف روس کے خلا باز تھے کہ جو 1960ء میں خلائی مشنز کے لیے منتخب کیے گئے اولین افراد میں سے ایک تھے۔ انہیں دو مرتبہ تربیت یا خلائی پرواز کے لیے طبی طور پر غیر موزوں قرار دیا گیا تھا، لیکن ثابت قدمی، زبردست صلاحیتیں اور انجینئر کی حیثیت سے وسیع معلومات نے انہیں پروگرام میں شامل رکھا۔ یہاں تک کہ انہیں ایک سے زیادہ خلابازوں کے پہلے مشن وسخود 1 کے لیے منتخب کیا گیا۔ پھر 1967ء میں وہ سویوز1 کے لیے بھی منتخب ہوئے، جو چاند پر پہنچنے کی سوویت کوششوں کا حصہ تھا۔

سویوز1 کے ساتھ وہ تاریخ کے پہلے خلاباز بن گئے، جو دو مرتبہ خلا میں پہنچے اور ساتھ ہی وہ پہلے شخص بھی جن کی جان چلی گئی۔ وہ 24 اپریل 1967ء کو اس وقت مارے گئے جب وہ خلا کی وسعتوں میں گم ہو جانے کے بعد بمشکل زمین کے مدار میں داخل ہوئے لیکن سویوز1 کیپسول کا پیراشوٹ نہ کھلنے کی وجہ سے پوری طاقت سے زمین سے ٹکرائے۔ ان کی جو باقیات ملیں، وہ دراصل جلے ہوئے گوشت کا ایک ڈھیر تھا۔ ایک عظیم خلاباز قربان ہوگیا، اور دنیا بھی اسے بھول گئی۔

خلا سے زمین پر گرنے والے کوماروف کی باقیات

روسی فضائیہ کے پائلٹ رہنے والے ولادیمر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے 1966ء میں جاپان کے ایک دورے میں کہا تھا کہ سوویت یونین چاند پر ایک مشن بھیجے گا اور اس کی دیگر تفصیلات بھی بتا دی تھیں۔ اگلے ہی سال ان کی روسی خلائی پروگرام کے انجینئرز کے ساتھ تکرار بھی ہوئی۔ ولادیمر کا کہنا تھا کہ سویوز ماڈیول کیپسول خلا باز کو محفوظ انداز میں زمین پر واپس لانے کے لیے موزوں نہیں۔ ان کے کسی خدشے یا تشویش کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ پھر مشن خلا میں بھیجا گیا، وہی ہوا جس کا ولادیمر کو خطرہ تھا۔ ناکامی ہوئی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ زمین سے ان کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ زمین کے گرد 19 واں چکر لگاتے ہوئے انہیں کچھ سمجھ آئی۔ وہ بڑی کوششوں کے بعد زمین کے مدار میں واپس آئے لیکن ان کے کیپسول کا پیراشوٹ نہیں کھلا۔ وہ پوری طاقت سے زمین سے ٹکرایا اور یوں کوماروف کی جان چلی گئی۔

ان کی جو آخری گفتگو ریکارڈ ہوئی، اس میں وہ سخت غصے کے عالم میں ان تمام افراد کو گالیاں دیتے سنائی دیے جنہوں نے خدشات کے باوجود انہیں بدترین خلائی جہاز میں سوار کیا اور یوں موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اپنے بزرگوں سے یہ سوالات ضرور پوچھیں

چاند غائب ہوجائے تو کیا ہوگا؟